مشتعل نہ ہو
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۵، صفحہ ۴
مشتعل نہ ہو
برٹرینڈ رسل ایک انتہائی آزاد خیال آدمی تھا۔ وہ اکثر ایسی غیر ردایتی باتیں کرتا تھا جس سے قدامت پسند طبقہ بگڑ جاتا ۔ اپنے ایک لکچر کے دوران پیش آنے والا واقعہ وہ اس طرح نقل کرتا ہے : A man rose in fury, remarking that I looked like a monkey; to which I replied, 'Then you will have the pleasure of hearing the voice of your ancestors'. ایک آدمی طیش میں آ کر کھڑا ہو گیا۔ اس نے کہا کہ میں ایک بندر دکھائی دیتا ہوں۔ میں نے اس کو جواب دیا : پھر تو آپ کو خوش ہونا چاہیے کہ آپ اپنے پرکھوں کی آواز سن رہے ہیں ۔ ۔ (آٹو بائیو گرانی ، صفحه ۵۶۵)
برٹرینڈ رسل کا یہ جواب نظریہ ارتقاء کے پس منظر میں ہے۔ اس نظریہ کے مطابق انسان بندر کی نسل سے ہے ۔ تاہم یہاں ہم کو اس نظریہ کی صحت سے بحث نہیں۔ یہ واقعہ ہم نے اس لیے نقل کیا ہے کہ یہ غیر مشتعل انداز میں جواب دینے کی ایک اچھی مثال ہے۔ جب کوئی شخص آپ کے خلاف کوئی سخت جملہ کہے یا آپ پر تیز وتند تنقید کرے تو اس وقت ایک صورت یہ ہے کہ آپ اس کو سن کر بگڑ جائیں اور اس کی سخت بات کا سخت اور شدید انداز میں جواب دیں۔ یہ جواب دینے کا غیر سنجیدہ طریقہ ہے۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ اشتعال انگیز بات سن کر مشتعل نہ ہوں۔ کوئی شخص خواہ کتنی ہی سخت کلامی کرے آپ اپنے توازن کو باقی رکھیں۔ آپ کا جواب رو عمل کا جواب نہ ہو بلکہ مثبت طور پر سوچا سمجھا ہوا جواب ہو۔
جواب کا پہلا انداز صرف اشتعال میں اضافہ کرتا ہے۔ جب کہ دوسرا انداز اشتعال کو ٹھنڈا کرنے والا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے آگ پر پانی ڈال دیا جائے۔
مزید یہ کہ دوسرا طریق جواب قائل کو خاموش کرنے کی بہترین تدبیر ہے۔ مذکورہ واقعہ میں برٹرینڈ رسل کا جواب جتنا مؤثر ثابت ہوا وہ اس وقت کبھی اتنا مؤثر نہ ہوتا جب کہ برٹرینڈ رسل نے رد عمل والا جواب دیا ہوتا ۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1985 All issues