Al-Risala · November 1985 · page 5

جھوٹا فخر

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۵، صفحہ ۵

جھوٹا فخر

عبد الواحد ایک ادھیڑ عمر کے چپراسی ہیں جو دہلی کے ایک اردو اخبار میں کام کرتے ہیں۔ ان کی تعلیم برائے نام ہے تاہم باتیں بہت دلچسپ کرتے ہیں۔ ایک مرتبہ میں نے ان سے پوچھا کہ مسلمان اتنا زیادہ لڑتے جھگڑتے کیوں ہیں۔ انھوں نے اپنے مخصوص انداز میں جواب دیا: مسلمان اپنے رعب میں رہتا ہے یہ چھوٹا سا جملہ مسلمانوں کی نفسیات کی بہترین ترجمانی ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان اپنے آپ کو سب سے اونچا سمجھتے ہیں۔ وہ اپنی بڑائی میں گم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دوسروں کی رعایت نہیں کر پاتے۔ وہ اس طرح عمل کرتے ہیں جیسے کہ دنیا میں صرف ان کا وجود ہے۔ ان کے سوا کسی اور کا کوئی وجود نہیں۔

اس نفسیات کے لیے دوسرا لفظ جھوٹا فخر ہے۔ یہی مسلمانوں کی اصل بیماری ہے۔ ان کے تمام مسائل جن میں وہ آج مبتلا ہیں اسی ایک چیز سے پیدا ہوئے ہیں ۔ موجودہ دنیا مقابلہ کی دنیا ہے۔ یہاں کوئی آدمی اپنی اہلیت کے بقدراپنی قیمت پاتا ہے ۔ ایسی دنیا میں جھوٹے فخر سے زیادہ قاتل کوئی چیز نہیں ۔

جھوٹا فخر آدمی کو غیر حقیقت پسند بنا دیتا ہے ۔ وہ آدمی کے اندر سے عمل کا جذبہ چھین لیتا ہے جس شخص یا قوم کے اندر جھوٹا فخر پیدا ہو جائے اس کے اندر یہ صلاحیت باقی نہیں رہتی کہ وہ دوسرے کے ہنر کا اعتراف کرے یا دوسروں کے ساتھ موافقت کر کے رہ سکے۔ ایسا آدمی ”پدرم سلطان بود“ اور ”ہم چو من دیگرے نیست“ کی نفسیات میں مبتلا رہتا ہے اور موجودہ دنیا میں بلاشبہ اس سے زیادہ ہلاکت خیز نفسیات اور کوئی نہیں ۔

ایسے لوگوں کے لیے موجودہ دنیا میں صرف یہ مقدر ہے کہ وہ ہمیشہ دوسروں سے لڑتے رہیں ۔ وہ احتجاج اور شکایت کی فضا سے کبھی باہر نہ آسکیں ۔ اپنی ہر ناکامی کے لیے وہ عرق دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرائیں ۔ وہ انھیں بے فائدہ مشغلوں میںمبتلا رہیں یہاں تک کہ مرکر قبر میں چلے جائیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1985 All issues

Printed page