کن فیکون
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۵، صفحہ ۷
کن فیکون
اس پہلے کسی مشین کو متحرک کرنے کے لیے ضروری ہوتا تھا کہ آدمی اپنا ہاتھ اس کی سوئچ تک لے جائے ۔ سوئچ کو دبا کر ہی کسی مشین کو متحرک کیا جا سکتا تھا۔ مگر موجودہ زمانہ میں ایک نیا سائنسی شعبہ وجود میں آیا ہے جس کو اسپپیچ ٹکنالوجی کہتے ہیں ۔ یعنی بات چیت کی ٹکنالوجی۔ یہ ایک قسم کا مشینی کلام ہے ۔ آپ اپنی زبان سے صرف لفظی حکم دیں اور مشین اپنا کام کرنے لگے گی۔ یہ فن اتنی تیزی سے ترقی کر رہا ہے کہ امریکہ میں مستقل میگزین نکل رہا ہے جس کا نام ہے اسپپیچ ٹکنالوجی میگزین ۔
گھریلو سامانٹوں میں ایسے سامان بنائے گئے ہیں کہ آپ اپنی زبان سے کہیں کہ روشنی بجھا دو اور مشینی نظام روشنی بجھا دے گا ۔ آپ کو اپنے کمرے کی صفائی کرنا ہے ۔ آپ مشینی انسان (روبوٹ) سے زبانی طور پر کہیں گے کہ کمرہ کی صفائی کر دو اور وہ مشینی جھاڑو کے ذریعہ کمرہ کی صفائی کرنے لگے گا۔
امریکہ کے بازار میں ایسے ٹیلی فون فروخت ہو رہے ہیں کہ آپ زبانی طور پر کہیں کہ فلاں جگہ کا نمبر ملاؤ اور وہ اپنے آپ وہاں کا نمبر ملا دے گا۔ شکاگو ایر پورٹ پر مختلف مقامات کے ٹکٹ کی تقین اس طرح کی جارہی ہے کہ آدمی زبان سے جگہ کا نام لیتا ہے اور کمپیوٹر فوراً اس کو مذکورہ جگہ کے خانہ میں پہنچا دیتا ہے ۔ تاہم اس قسم کی مشینیں ابھی اتنا زیادہ قیمتی ہیں کہ عام آدمی ان کی خریداری کا تحمل نہیں کر سکتا صرف حکومتیں یا بڑے سے بڑے تجارتی ادارے ہی ان کو خرید کر اپنے یہاں رکھ سکتے ہیں۔ (ٹائمس آف انڈیا ۶ ستمبر ۱۹۸۵) قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اللہ جب کسی کام کو کرنا چاہتا ہے تو صرف یہ کہہ دیتا ہے کہ ہو جا اور وہ ہو جاتا ہے (النحل ۴۰) قدیم زمانہ کے انسان کو یہ بات قابل فہم نظر نہیں آتی تھی کہ لفظ بولنے سے کس طرح عملی واقعات ظہور میں آئیں گے۔ مگر آج اسپیچ ٹکنالوجی نے اس کو بالکل قابل فہم بنا دیا ہے ۔ یہ خدا کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے جو ایک بڑی حقیقت کا چھوٹی سطح پر مظاہرہ کر رہی ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1985 All issues