Al-Risala · November 1985 · page 8

امامت عالم کا راز

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۵، صفحہ ۸

امامت عالم کا راز

نومبر، ۱۸۴۷ کی چار تاریخ تھی۔ اسکاٹ لینڈ کے ایک ڈاکٹر کے کمرہ میں اس کا ملازم داخل ہوا تو اس نے دیکھا کہ ڈاکٹر اور اس کے دو ساتھی اپنی کرسیوں سے گر کر فرش پر اوندھے منھ بے ہوش پڑے ہوئے ہیں۔ ملازم نے سمجھا کہ ان لوگوں نے شاید آج کوئی تیز قسم کی شراب پی لی ہے اس بنا پر ان کا یہ حال ہوا ہے۔ اس نے ان کے کپڑے درست کیے اور خاموشی کے ساتھ باہر چلا گیا۔ مگر بات دوسری تھی۔ یہ دراصل سر جیمز سمپسن (۱۸۸۰ء۔ ۱۸۱۱ء) اور ان کے دو اسسٹنٹ تھے۔ انھوں نے انسانی جسم پر کلوروفارم کے اثرات کا تجربہ کرنے کے لیے پہلی بار اس کو سانس کے ذریعہ اپنے اندر داخل کر لیا تھا۔ سمپسن ایک غریب نانبائی کے سات لڑکوں میں سب سے چھوٹا تھا۔ چار سال کی عمر میں اس نے اپنے گاؤں کے اسکول میں تعلیم شروع کی۔ اس نے تعلیم میں اتنی دلچسپی دکھائی کہ اس کا باپ اور چچہ بھائی اس پر راضی ہو گئے کہ خود انتہائی ضروری مصارف پر قناعت کر کے اس کو اعلیٰ تعلیم کے لیے شہر بھیجیں۔ اس طرح وہ ایڈنبرا یونیورسٹی پہنچا اور ڈاکٹری میں اس وقت کی سب سے اونچی ڈگری (ایم ڈی) حاصل کی۔

ڈاکٹر سمپسن کو اپنے مطالعہ کے دوران معلوم ہوا کہ کلورو فارم میں بے ہوش کرنے کی صلاحیت ہے۔ اس نے اس کی تحقیق شروع کر دی۔ وہ اس نتیجہ پر پہنچا کہ آپریشن کے وقت اگر مریضوں کو وقتی طور پر کلورو فارم کے ذریعہ بے ہوش کر دیا جائے تو اس کو چیر پھاڑ کی بھیانک تکلیف سے نجات دلائی جاسکتی ہے۔ اس نے اپنی تحقیق جاری رکھی۔ یہاں تک کہ خود اپنے آپ پر تجربہ کر کے یہ ثابت کر دیا کہ کلورو فارم تو بے ضرر بے ہوشی کے لیے کامیاب طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح غریب نانبائی کا یہ لڑکا انسان کو وہ چیز دے سکا جس کو ڈاکٹر براؤن نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے ۔ دکھی انسانوں کے لیے خدا کا ایک بہترین تحفہ :

---- one of God's best gifts to his suffering children. جدید دنیا میں مغرب کی امامت کا راز اس کے اسی قسم کے باحوصلہ افراد ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو کھویا تاکہ وہ انسانیت کو دیں۔ انھوں نے اپنے آپ کو خطرہ میں ڈالا تاکہ وہ دوسروں کو خطرہ سے بچا سکیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1985 All issues

Printed page