اقتصادی حملہ
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۵، صفحہ ۱۲
اقتصادی حملہ
ہوائی (Hawaii) بحر الکاہل کا جزیرہ ہے۔ اس کے ایک ساحلی مقام کا نام پرل ہاربر ہے۔ پرل ہاربر کو امریکہ نے ایک فوجی بندرگاہ کے طور پر ترقی دی۔ یہ بحر الکاہل میں امریکہ کا سب سے زیادہ مضبوط بحری اڈہ بن گیا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران ۲۷ دسمبر ۱۹۴۱ کو جاپان نے پرل ہاربر پر بمبار ہوائی جہازوں سے حملہ کیا۔ اس وقت امریکہ کے تقریباً ایک سو جنگی جہاز یہاں موجود تھے۔ جاپانی بمباری نے ان میں سے اکثر کو تباہ کر دیا۔
اس کا بدلہ امریکہ نے اس طرح لیا کہ ۶ اگست ۱۹۴۵ کو اس نے دو ایٹم بم جاپان پر گرائے۔ جس کے نتیجہ میں جاپان کے دو اہم ترین صنعتی شہر بالکل تباہ ہو گئے۔ تاہم یہ دونوں شہر (ہیرو شیما اور ناگاساکی) اب دوبارہ زیادہ شاندار طور پر تعمیر کر لیے گیے ہیں۔ ۱۹۴۵ میں وہ جاپان کی بربادی کی علامت تھے۔ ۱۹۸۵ میں وہ جاپان کی غیر معمولی ترقی کی علامت ہیں۔
دوسری جنگ عظیم کا خاتمہ جاپان کی مکمل شکست پر ہوا تھا۔ مزید یہ کہ امریکہ نے اس کے اوپر اپنی فوجی اور سیاسی بالادستی قائم کر لی۔ مگر جاپان نے حیرت انگیز طور پر اس کا ثبوت دیا کہ وہ اپنے آپ کو حالات کے مطابق بدل لینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم سے پہلے وہ ہتھیاروں پر یقین رکھتا تھا مگر جنگ کے بعد اس نے خود اپنی مرضی سے ہتھیار الگ رکھ دیئے اور خالص پرامن انداز میں اپنی نئی تعمیر شروع کر دی۔ جاپان نے لڑائی کے میدان کو چھوڑ دیا جو اس کے لیے بند ہو گیا تھا۔ اس نے تعمیر کے میدان کو اختیار کر لیا جو اب بھی اس کے لیے کھلا ہوا تھا۔ دوسری تدبیر پہلی تدبیر سے زیادہ کامیاب ہوئی۔ جاپان صنعت و تجارت میں اس حد تک آگے بڑھ گیا کہ آج وہ دنیا کی دوسری سب سے بڑی اقتصادی طاقت سمجھا جاتا ہے۔ امریکہ کے مقابلہ میں اس کا ٹریڈ سرپلس ۳۷ بلین ڈالر کے بقدر زیادہ ہے۔ جنگ کے فاتح امریکہ کو مفتوح جاپان نے اقتصادیات کے میدان میں شکست دے دی۔
اس صورت حال سے امریکہ کے لوگ بے حد پریشان ہیں۔ وہ جاپان کے موجودہ حملہ کو
‹ Previous page Next page › Contents of November 1985 All issues