اقتصادی حملہ
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۵، صفحہ ۱۳
اقتصادی پرل ہاربر (Economic Pearl Harbour) کا نام دیتے ہیں۔ امریکہ میں ایک کتاب چھپی ہے جو اس وقت امریکہ اور جاپان میں سب سے زیادہ بکنے والی کتاب بن گئی ہے۔ اس کتاب کا نام ہے: جاپان نمبر ایک (Japan – Number One)
اس کتاب میں دکھایا گیا ہے کہ جاپان اور امریکہ کے درمیان تجارت میں جاپان بہت زیادہ آگے بڑھ گیا ہے۔ اور عنقریب وہ برطانیہ سے بھی آگے بڑھ جانے والا ہے۔ بیرونی اثاثہ کے اعتبار سے جاپان آج دنیا کی سب سے زیادہ دولت مند قوم ہے۔ اس کا بیرونی اثاثہ ۱۹۸۴ کے آخر میں ۴۰۷ بلین ڈالر تھا۔ (ٹائمز آف انڈیا ۱۳۔ ۴ جون ۱۹۸۵)
جاپان نے اپنی فوجی شکست کو اقتصادی فتح میں کس طرح تبدیل کیا۔ جواب یہ ہے کہ اس کا راز یہ تھا کہ جاپان نے از سر نو وہاں سے اپنا سفر شروع کیا جہاں حالات نے اس کو پہنچا دیا تھا۔ اس نے اشتعال کے بجائے صبر کا طریقہ اختیار کیا۔ اس نے ٹکراؤ کے میدان سے ہٹ کر پر امن میدان میں اپنی قوتوں کو استعمال کیا۔ جو امکان برباد ہو گیا تھا، وہ اس کا فریادی نہیں بنا۔ بلکہ جو امکان باقی رہ گیا تھا اس نے اپنی ساری توجہ اس پر لگادی۔
خلاصہ یہ کہ جاپان نے دوسروں کو الزام دینے کے بجائے اپنے آپ کو الزام دیا اور اس کے بعد فوراً اس کی نئی تاریخ بننا شروع ہو گئی جو اس وقت تک نہ رکی جب تک وہ تکمیل کی حد کو نہ پہنچ گئی۔
آپ اس دنیا میں اکیلے نہیں ہیں بلکہ یہاں دوسرے بہت سے لوگ بھی ہیں۔ اور وہ سب بڑھنے اور غالب ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس صورت حال کے مقابلہ میں آپ کا طریقہ دو قسم کا ہو سکتا ہے۔ ایک یہ کہ جہاں کوئی دوسرا آپ کو اپنی راہ میں حائل نظر آئے وہاں آپ اس سے لڑنا شروع کر دیں۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ٹکراؤ سے بچ کر اپنی مثبت تعمیر کرنے کی کوشش کریں۔ تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ اس دنیا میں صرف دوسرا طریقہ کامیاب طریقہ ہے۔ اس کے برعکس پہلا طریقہ صرف بربادی کا طریقہ ہے۔ سمندری جہاز کو اگر چلتے ہوئے راستہ میں چٹان مل جائے تو وہ اس سے کتر آ کر نکل جاتا ہے۔ اور جو جہاز اس سے لڑکر جانا چاہے وہ ٹوٹ کر ختم ہو جاتا ہے۔ ایسے جہاز کے لیے منزل پر پہنچنا مقدر نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1985 All issues