Al-Risala · February 1985 · page 2

عجیب غفلت

الرسالہ، فروری ۱۹۸۵، صفحہ ۲

عجیب غفلت

مولانا شبلی نعمانی (۱۹- ۱۸۵۷) نے اپنے زمانہ میں ایک مضمون لکھا تھا جس کا عنوان تھا۔ ’’ندوۃ العلماء کیا کر رہا ہے"۔ اس مضمون میں انھوں نے کلکتہ کے اخبار حبل المتین (۱۰ اگست ۱۹۰۴) کا ایک اقتباس درج کیا تھا۔ یہ اقتباس "تاریخ ندوۃ العلماء حصہ اول میں نقل کیا گیا ہے۔ یہ کتاب مولانا محمد اسحاق جلیس ندوی مرحوم نے مرتب کی تھی۔ مولانا شبلی کا اقتباس بعض ضروری اضافے کے ساتھ حسب ذیل ہے:

" جس زمانہ میں روسی قوم بت پرست تھی، شہنشاہ روس ولادی میر (Vladimir) نے مذاہب کی تحقیق کے لئے) ایک جلسہ طلب کیا تھا جس میں علماء اسلام کو بھی بلایا تھا۔ جو صاحب اس غرض کے لئے قازان سے تشریف لائے تھے انھوں نے اسلام کے تمام عقائد اور فلسفہ میں سے صرف یہ مسئلہ منتخب کر کے پیش کیا کہ (اسلام میں) سور کا گوشت کھانا بالکل حرام ہے۔ مورخین روس لکھتے ہیں کہ شہنشاہ روس ولادی میر (۱۰۱۵ - ۹۵۶) اسلام کی طرف مائل تھا اور چاہتا تھا کہ تمام قوم روس کے لئے مذہب اسلام کا انتخاب کر دے۔ لیکن قازانی عالم نے شریعت اسلام کے تمام احکام میں سے صرف اس مسئلہ کو پیش کر کے اس پر اس قدر زور دیا کہ شہنشاہ نے غصہ میں آکر ان کو نکلوادیا اور عیسائی مذہب قبول کر لیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہو ا کہ (روس کے) ۶ کروڑ آدمی عیسائی ہو گئے "۔ بظاہر یہ غفلت بڑی عجیب معلوم ہوتی ہے۔ مگر اس سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ یہ غفلت بدستور آج بھی جاری ہے۔ قازان کے عالم کی غلطی یہ تھی کہ انھوں نے مدعو سے غیر حکیمانہ گفتگو کی جس کی وجہ سے وہ بدک گیا ۔ آج کے مسلمانوں کی غلطی بھی یہی ہے کہ وہ اپنے مدعو گروہوں سے بے فائدہ مقابلہ آرائی جاری کئے ہوئے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اسلام کے مخاطبین کے دل اسلام کے بارہ میں سخت ہو گئے ہیں۔

مسلمانوں کی ذمہ داری تھی کہ وہ خدا کے بندوں کو خدا کے دین کی طرف بلائیں۔ مگر اس کے بر عکس وہ یہ کر رہے ہیں کہ اپنے لایعنی جھگڑوں سے لوگوں کو اسلام سے بدکائے ہوئے ہیں۔ یہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا سب سے بڑا جرم ہے۔ دنیا کی قوموں کو دین حق سے قریب کرنا تو درکنار وہ دنیا کی قوموں کو دین حق سے دور کر رہے ہیں۔ اس جرم کے ساتھ مسلمان کبھی خدا کی مدد کے مستحق نہیں ہو سکتے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1985 All issues

Printed page