حادثات کیوں
الرسالہ، فروری ۱۹۸۵، صفحہ ۳
حادثات کیوں
ٹرین جب پلیٹ فارم سے روانہ ہونے والی ہوتی ہے تو سیٹی دیتی ہے۔ اس سیٹی کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ آگاہ ہو جائیں۔ اگر کچھ مسافر پلیٹ فارم پر ہوں تو وہ فوراً اپنے ڈبے میں آ کر بیٹھ جائیں۔ تاہم اس سیٹی کو دو از سے دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر آپ محض آواز کے معنی میں لے کر اس کو شور (Noise pollution) کہیں تو وہ بالکل بے معنی ہوگی لیکن اگر آپ اس کو ”الارم “ کہیں تو وہی چیز آپ کی نظر میں بالکل درست اور با معنی بن جائے گی۔
یہی معاملہ فطرت کے حادثات کا ہے۔ فطرت کے حادثات کو دور زاویہ نگاہ سے دیکھا جا سکتا ہے۔ ہماری زمین پر قحط، زلزلے، طوفان آتے ہیں اور دوسری قسم کی آفتیں پیش آتی ہیں۔ بعض فلسفیوں نے ان کو مطلق طور پر دیکھا تو ان کو ان واقعات میں کوئی معنویت نظر نہیں آئی۔ ان کو انھوں نے مسئلہ فساد (Problem of evil) کا نام دے دیا۔
مگر پیغمبر ان واقعات کو ایک اور زاویہ نگاہ سے دیکھتا ہے۔ یہ دوسرا زاویہ نصیحت اور عبرت کا زاویہ ہے۔ اس اعتبار سے دیکھنے میں اس قسم کے تمام واقعات فطرت کا الارم بن جاتے ہیں ۔ پیغمبر کی تشریح کے مطابق یہ واقعات بڑی قیامت سے پہلے چھوٹی قیامت ہیں۔ وہ انسان کو یاد دلاتے ہیں کہ وہ ایک بڑے سخت دن کی طرف بڑھ رہا ہے جب کہ خدا اپنی عظیم طاقتوں کے ساتھ ظاہر ہوگا۔ تمام انسان مجبور اور بے بس حالت میں اس کے سامنے پیش کئے جائیں گے۔ اس دن آدمی بھاگنا چاہے گا مگر کوئی جگہ نہ ہوگی جہاں وہ بھاگ کر پناہ لے سکے۔ اس دن آدمی مدد کے لئے پکارے گا مگر وہاں کوئی نہ ہوگا جو اس کی مدد کے لئے دوڑے۔
یہ واقعات جو زیادہ بڑی شکل میں قیامت میں پیش آئیں گے وہی بہت چھوٹی شکل میں موجودہ دنیا میں پیش آتے ہیں۔ وہ قیامت سے پہلے قیامت کی یاد دہانی ہیں۔ کل کے دن جو پردہ کامل طور پر پھاڑا جانے والا ہے اس کو آج ان حادثات کے ذریعہ جزئی طور پر پھاڑ دیا جاتا ہے۔ عقلمند انسان وہ ہے جو اس قسم کے واقعات کو فطرت کا الارم سمجھے نہ کہ فطرت کا بگاڑ۔ ان کو الارم کی نظر سے دیکھا جائے تو تواضع اور اصلاح کا جذبہ ابھرے گا۔ اور اگر ان کو اس نظر سے دیکھا جائے کہ یہ نظام فطرت کی خرابی ہے تو اس سے ذہنی انتشار اور بغاوت کے جذبات ابھرتے ہیں۔ پہلا ذہن آدمی کو جنت کی طرف لے جاتا ہے اور دوسرا ذہن جہنم کی طرف۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1985 All issues