Al-Risala · November 1985 · page 20

مسلمان بھی

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۵، صفحہ ۲۰

مسلمان بھی

قدیم مکہ کے مشرکین اپنے آپ کو حضرت ابراہیم سے منسوب کرتے تھے۔ مگر انھوں نے قرآن کو ماننے سے انکار کر دیا۔ حالانکہ قرآن حضرت ابراہیم ہی کی اصل تعلیمات لے کر آیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مشرکین کی نظر میں حضرت ابراہیم کی وہ تصویر بسی ہوئی تھی جو ان کی قومی روایات کے ذریعہ بنی تھی۔ بچوں کی ان کی روایتی تصویر اور قرآن کی تصویر میں فرق تھا۔ اس لیے وہ قرآن کی اہمیت سمجھنے سے قاصر رہے۔ یہی معاملہ یہود و نصاریٰ کا تھا۔ یہود حضرت موسیٰ پر فخر کرتے تھے اور نصاریٰ حضرت مسیح پر۔ مگر دونوں نے قرآن کو ماننے سے انکار کر دیا۔ حالانکہ قرآن کی تعلیمات عین وہی تھیں جن کو لے کر حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح بھیجے گیے تھے۔ اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ یہود و نصاریٰ نے اپنی روایات میں حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح کی تصویر اس سے مختلف بنا رکھی تھی جو قرآن میں تھی ۔ وہ دونوں میں مطابقت نہ پاسکے اس لیے وہ قرآن کے منکر بن گیے ۔

یہی معاملہ مسلمانوں کے ساتھ بھی پیش آسکتا ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دین اگر چہ قرآن اور سنت کی صورت میں پوری طرح محفوظ ہے۔ مگر عین ممکن ہے کہ آپ کے بعد مسلمانوں کے درمیان ان کی جو قومی روایات جمع ہوں ان میں پیغمبر اور قرآنی تعلیم کی تصویر بگڑ کر کچھ سے کچھ ہو جائے ۔ ایسی حالت میں جب قرآن کا بے آمیز دین ان کے سامنے پیش کیا جائے گا تو وہ اس کو اپنے مانوس قومی دین کے مطابق نہ پائیں گے اور اس بنا پر قرآنی دعوت کو ماننے سے انکار کر دیں گے۔ مسلمانوں کا اپنا بنایا ہوا دین ان کے لیے اصل اسلام کو سمجھنے میں اسی طرح رکاوٹ بن جائے گا جس طرح پچھلی قوموں کے لیے ان کا خود ساختہ دین رکاوٹ بن گیا تھا۔

مسلمانوں کے اپنے روایتی دین میں اگر ظواہر عبادت کی اہمیت ہو جائے تو وہ ایسی دعوت کی طرف متوجہ نہیں ہوں گے جو حقیقت عبادت پر زور دے رہی ہو۔ مسلمانوں کے ذہن پر اگر اپنے اکابر کی عظمت چھا جائے تو خدائی عظمت کی باتیں ان کے ذوق کو اجنبی معلوم ہوں گی۔ مسلمانوں کے درمیان اگر تقلیدی مذہب کا رواج ہو جائے تو ایسی آواز ان کو غیر مانوس معلوم ہوگی جو براہ راست قرآن و سنت سے دین اخذ کرنے کی تلقین کر رہی ہو ۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1985 All issues

Printed page