Al-Risala · November 1985 · page 19

ایمان

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۵، صفحہ ۱۹

ایمان بندے اور خدا کے درمیان اس اتصال کا قائم ہونا ہے جس کی ایک مادی مثال بلب اور پاور ہاؤس کے اتصال کی صورت میں ملتی ہے۔ بلب کا تعلق جب پاور ہاؤس سے قائم ہوتا ہے تو وہ اچانک چمک اٹھتا ہے، وہ وہ ہو جاتا ہے جو وہ پہلے نہیں تھا۔ اس کا اندھیرا اجالے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ایک بندہ جب اپنے رب کو حقیقی معنوں میں پاتا ہے تو اس کی ہستی خدا کے نور سے جگمگا اٹھتی ہے۔ اس کے اندر ایسے اوصاف پیدا ہوتے ہیں جو اس کو کہیں سے کہیں پہنچا دیتے ہیں۔

صحابہ کرام کے لیے ایمان کا مطلب یہی تھا۔ صحابہ کرام کا ایمان ان کے لیے ایک زندگی سے نکل کر دوسری زندگی میں داخل ہونا تھا۔ یہ ان کے لیے تاریکی کے مقابلے میں روشنی کی دریافت تھی۔ حضرت حذیفہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کر رہے تھے تو ان کی زبان سے یہ الفاظ نکلے : یا رسول اللہ كنا فی جاہلية وشر فجاء اللہ بهذا الخير (اے اللہ کے رسول، ہم جاہلیت اور شر میں تھے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس خیر کو لے آیا) اس طرح جو ایمان ملتا ہے وہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے جو روایتی یا تقلیدی طور پر کسی آدمی کو مل جائے۔ تقلیدی ایمان آدمی کو متحرک نہیں کرتا جب کہ معرفت والا ایمان آدمی کو دائمی طور پر متحرک کر دیتا ہے۔ تقلیدی ایمان سے آدمی کے اندر کوئی ذاتی نگاہ پیدا نہیں ہوتی۔ جب کہ معرفت والا ایمان آدمی کے اندر ذاتی نگاہ پیدا کر دیتا ہے جس سے وہ چیزوں کو دیکھے اور خود اپنی بصیرت سے فیصلہ کر سکے۔

تقلیدی ایمان سے صرف جامد عقیدہ پیدا ہوتا ہے۔ جب کہ معرفت والا ایمان آدمی کے اندر انقلاب بن کر داخل ہوتا ہے، وہ آدمی کے فکر و عمل کی دنیا میں ایک ہیجان پیدا کرتا ہے۔ تقلیدی ایمان سے بے جان افراد پیدا ہوتے ہیں۔ جب کہ معرفت والے ایمان سے جاندار افراد ظہور میں آتے ہیں۔ اور جاندار افراد ہی وہ لوگ ہیں جو کہ تاریخ بناتے ہیں۔ جو انسانیت کے لیے کوئی نیا مستقبل ظہور میں لاتے ہیں۔

تقلیدی ایمان آدمی کو اپنی قوم سے ملتا ہے اور معرفت والا ایمان براہ راست اللہ تعالیٰ سے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1985 All issues

Printed page