اختلاف رائے
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۵، صفحہ ۲۲
اختلاف رائے
حضرت ابوبکر صدیق کی خلافت کے زمانہ کا واقعہ ہے ۔ دوسردار خلیفہ اول کے پاس آئے ۔ ان کا نام عیینہ بن حصن اور اقرع بن حابس تھا۔ ان دونوں کو فتح ہو ازن کے بعد سوسو اونٹ دیئے گیے تھے ۔ انھوں نے حضرت ابوبکر سے ایک زمین طلب کی ۔ آپ نے تالیف قلب کے لیے انھیں یہ زمین دیدی اور ان کے لیے باقاعدہ ایک تحریر لکھ دی۔ عیینہ اور اقرع نے چاہا کہ دوسرے بڑے صحابہ کی تصدیق اس عطیہ کے حق میں حاصل کرلیں ۔ اس سلسلہ میں وہ حضرت عمر فاروق کے پاس گیے۔ حضرت عمر نے حضرت ابو بکر کے فرمان کو لے کر پھاڑ دیا :
جاء عيينة والاقرع يطلبان ارضا الی عیینہ اور اقرع حضرت ابوبکر کے پاس آئے اور ابی بكر فكتب له الخط فمزقه عمر ایک زمین طلب کیا۔ آپ نے ان کے حق میں وقال هذا شئ كان رسول الله صلى الله ایک تحریر لکھ دی۔ پھر حضرت عمر نے اس عليه وسلم يعطيکموه ليتألفكم على تحریر کو بھی پھاڑ دیا ۔ اور کہا کہ یہ وہ چیز ہے الاسلام والآن فقد اعز الله الاسلام جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم لوگوں کو واغنى عنكم ۔ نرجعوا الى ابی بکر تالیف قلب کے طور پر دیتے تھے ۔ مگر اب فقالوا الخليفة انت ام عمر فقال اللہ نے اسلام کو طاقتور بنا دیا ہے اور تم سے ہوان شاء ووافقه بے نیاز کر دیا ہے۔ اس کے بعد وہ لوگ حضرت (التفسير المظهری ، جلد ۴ ، صفحه ۲۳۶) ابوبکر کے پاس آئے اور کہا کہ خلیفہ آپ ہیں یا عمر ۔ حضرت ابوبکر نے فرمایا ، وہی ہیں اگر وہ چاہیں اور انھوں نے حضرت عمر کی رائے سے اتفاق کیا ۔
یہ واقعہ تنقید کی ایک نہایت شدید مثال ہے ۔ مگر اس شدید تنقید کو نہ تو حضرت ابوبکر نے بُرا مانا اور نہ صحابہ نے ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام میں تنقید اور اختلافِ رائے کی کتنی زیادہ آزادی دی گئی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1985 All issues