دومشالیں
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۵، صفحہ ۲۳
دومشالیں
دمشق کی مسلم خلافت جس زمانہ میں ولید بن عبد الملک اموی کے ہاتھ میں تھی۔ خلیفہ کی طرف سے موسیٰ بن نصیر شمالی افریقہ کے حاکم تھے۔ اسپین میں مسلمانوں کا داخلہ انھیں موسیٰ بن نصیر کی ماتحتی میں انجام پایا۔ موسیٰ بن نصیر نے اولاً معلومات حاصل کرنے کے لیے سردار طریف کو ۵۰۰ آدمیوں کے ساتھ اسپین بھیجا۔ سردار طریف کی واپسی کے بعد طارق بن زیاد (ایک بربری غلام) کی سرداری میں سات ہزار کا لشکر روانہ کیا گیا۔ یہ لوگ مراکش کے ساحل سے کشتیوں پر روانہ ہوئے اور تقریباً دس میل کا سمندری سفر طے کر کے اسپین کے ساحل پر اتر گئے ۔
طارق بن زیاد کو اسپین میں داخل ہوتے ہی ایک بڑی فوج سے سابقہ پیش آیا۔ طارق ابن زیاد کے ساتھ صرف سات ہزار آدمی تھے اور دوسری طرف ایک لاکھ کی فوج جو ہر لحاظ سے زیادہ مسلح اور زیادہ بہتر حالت میں تھی ۔ ۲۸ رمضان ۹۲ھ (جولائی ۷۱۱ء) کو دونوں فوجوں کے درمیان مقابلہ ہوا۔ اس درمیان میں مزید ۵ ہزار فوج طارق کی مدد کے لیے مرکز سے آگئی ۔ بارہ ہزار مسلمانوں نے ایک لاکھ عیسائیوں سے نہایت بے جگری کے ساتھ مقابلہ کیا اور ان کے اوپر فتح حاصل کی۔ اس طرح طارق ابن زیاد نے اسپین میں مسلم سلطنت کی بنیاد رکھی ۔
طارق بن زیاد نے فتح کی خبر اپنے امیر موسیٰ بن نصیر کے پاس روانہ کی ۔ امیر موسیٰ بن نصیر نے اس کے جواب میں طارق بن زیاد کو لکھا کہ تم نے ملک کا جتنا حصہ فتح کیا ہے اسی پر قائم رہو اور اس سے آگے مت بڑھو۔ اس کے بعد موسیٰ بن نصیر ۱۸ ہزار فوج کے ساتھ اسپین کی طرف روانہ ہوئے۔ امیر موسیٰ بن نصیر کا مذکورہ خط طارق بن زیاد کو ملاتو ان کی اور ان کے ساتھیوں کی رائے یہ ہوئی کہ اس وقت پیش قدمی سے رکنا درست نہیں ہے ۔ ہم کو آگے بڑھ کر ملک کے بقیہ حصوں کو بھی فتح کرنا چاہیے ورنہ عیسائی طاقتیں اکٹھا ہو کر ہمارے اوپر حملہ کر دیں گی ۔ اور ہمارے لیے موجودہ قبضہ کو باقی رکھنا بھی مشکل ہو جائے گا ۔ چنانچہ طارق بن زیاد نے امیر کے مشورہ کے خلاف اپنی پیش قدمی جاری رکھی اور قرطبہ اور طلیطلہ وغیرہ علاقے فتح کر ڈالے ۔
امیر موسیٰ جب اسپین پہنچے تو وہ یہ دیکھ کر سخت ناراض ہو گئے کہ طارق نے ان کے حکم کی پروا
‹ Previous page Next page › Contents of November 1985 All issues