Al-Risala · November 1985 · page 25

تزکیہ

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۵، صفحہ ۲۵

تزکیہ

قرآن میں پیغمبر کے دو خاص کام بتائے گئے ہیں تعلیمِ کتاب اور تزکیہ ۔ تعلیمِ کتاب سے مراد قرآن کی تعلیم ہے۔ یعنی خدائی متن کو فرشتہ سے لے کر انسانوں تک پہنچانا۔ دوسری چیز تزکیہ ہے۔ تزکیہ سے مراد وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانہ میں ایجوکیٹ کرنا یا باشعور بنانا کہا جاتا ہے۔ یعنی لوگوں کے فکر کو ربانی فکر بنانا۔ ان کی ذہنی تربیت کر کے انھیں اس قابل بنانا کہ وہ اس طرح سوچیں جس طرح خدا چاہتا ہے کہ سوچا جائے۔ اور اس طرح فیصلہ کریں جس طرح خدا چاہتا ہے کہ فیصلہ کیا جائے۔

موجودہ زمانہ میں جو مسلم مصلحین اٹھے ان میں مشترک طور پر یہ بنیادی خامی پائی جاتی ہے کہ انھوں نے ”تزکیہ“ سے اپنے کام کا آغاز نہیں کیا۔ تقریباً ہر ایک کا یہ حال ہوا کہ مسلمانوں کے کچھ احوال اس کے سامنے آئے اور ان کو دیکھ کر وہ پرجوش طور پر اٹھ کھڑا ہوا۔ ذہن بنائے بغیر اس نے عملی اقدامات شروع کر دئے کسی نے انگریزی استعمار سے ٹکر لے کر جہادِ آزادی کا نعرہ لگا دیا۔ کوئی مغربی تہذیب کے غلبہ کو دیکھ کر میدانِ عمل میں آگیا۔ کسی کو ”شردھانند“ کے قتل کے بعد پیدا ہونے والے حالات نے مجاہدِ اسلام بنا دیا۔ کوئی شدی سنگھٹن کی تحریک سے بے چین ہو کر سرگرمِ عمل ہو گیا۔ کسی کو مسلم خلافت کے زوال نے جان دینے پر آمادہ کر دیا۔ وغیرہ یہ سب کام کا غیر پیغمبرانہ طریقہ ہے۔ کام کا پیغمبرانہ طریقہ یہ ہے کہ اس کو تزکیہ سے شروع کیا جائے نہ کہ اقدام سے۔

تزکیہ کا ایک مطلب یہ ہے کہ افراد کو دین کا صحیح علم حاصل ہو جائے ۔ وہ صحیح دینی انداز میں سوچنا جان لیں۔ ان کے اندر یہ صلاحیت پیدا ہو جائے کہ وہ غیر اسلامی نقطۂ نظر کے مقابلے میں اسلامی نقطۂ نظر کو پہچان سکیں۔ وہ مختلف قسم کے حالات میں یہ فیصلہ کر سکیں کہ کس وقت انھیں کیا کرنا ہے اور کس وقت انھیں کیا نہیں کرنا ہے۔

تزکیہ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ افراد کے اندر زمانہ شناسی کی صلاحیت پیدا ہو جائے ۔ وہ جان لیں کہ دنیا کے حالات کیا ہیں اور ان حالات میں دین کو کس طرح منطبق کیا جا سکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1985 All issues

Printed page