دومشالیں
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۵، صفحہ ۲۴
نہیں کی اور پیش قدمی جاری رکھی امیر موسیٰ نے طارق کو اس حکم عدولی پر قید کر دیا۔ تاہم یہ صرف ایک ظاہری کارروائی تھی جو انھوں نے اس لیے کی کہ دوسرے سرداروں کو یہ سبق ہو جائے کہ ماتحت کے لیے افسر کے حکم کی تعمیل کرنا ضرور ی ہے ، وہ دل سے طارق کی بہادری اور حسن کارکردگی پر خوش تھے چنانچہ وقتی تنبیہ کے بعد امیر موسیٰ نے طارق کی اس طرح قدردانی کی کہ ان کو اسپین کی تمام افواج کا سپہ سالار بنا دیا ۔
یہ صورت جو طارق بن زیاد کے ساتھ پیش آئی تھی، یہی جلد ہی بعد خود موسیٰ بن نصیر کے ساتھ بھی پیش آئی۔ خلیفہ ولید بن عبد الملک کو جب موسیٰ بن نصیر کی فتوحات کا علم ہوا اور یہ معلوم ہوا کہ موسیٰ بن نصیر اسپین کو فتح کر کے فرانس میں داخل ہونا چاہتے ہیں تو خلیفہ نے موسیٰ بن نصیر کو لکھا کہ تم یورپ میں مزید پیش قدمی نہ کرو اور بلا تاخیر دمشق واپس آجاؤ۔ خلیفہ کے اس حکم کی تعمیل میں موسیٰ بن نصیر اندلس سے دمشق کی طرف روانہ ہوئے۔ انھوں نے اندلس کی حکومت اپنے لڑکے عبد العزیز کے سپرد کی اور کثیر مالِ غنیمت اور سونے چاندی کے ساتھ روانہ ہو کر مراکش اور مصر ہوتے ہوئے شام پہنچے اتفاق سے اسی زمانہ میں خلیفہ ولید بن عبد الملک سخت بیمار ہو گیا جو اس کے لیے مرض الموت ثابت ہوا۔ ولید بن عبد الملک کے بعد اس کا بھائی سلیمان بن عبد الملک تخت پر بیٹھنے والا تھا۔ سلیمان کو جب یہ معلوم ہوا کہ موسیٰ بن نصیر کثیر اموال کے ساتھ شام پہنچ گئے ہیں تو اس نے موسیٰ کے پاس پیغام بھیجا کہ تم ابھی باہر رُکے رہو اور دمشق میں داخل ہونے میں جلدی نہ کرو۔ سلیمان بن عبد الملک کا منشا یہ تھا کہ خلیفہ ولید کی وفات کے بعد امیر موسیٰ دمشق آئیں اور اسپین کا مال غنیمت میرے خلیفہ بننے کے بعد دربار میں لایا جائے۔ اس طرح میری تخت نشینی کی اہمیت بڑھ جائے گی۔ مگر امیر موسیٰ سلیمان بن عبد الملک کے اس پیغام کی رعایت نہ کر سکے اور وہ تیزی سے سفر کر کے دمشق پہنچ گئے۔ امیر موسیٰ کے دربار میں حاضری کے صرف چند دن بعد خلیفہ ولید بن عبد الملک کی وفات ہو گئی اور ۱۶ جمادی الثانی ۹۴ ھ کو سلیمان بن عبد الملک خلیفہ قرار پایا۔ سلیمان بن عبد الملک کے لیے یہ ممکن تھا کہ وہ امیر موسیٰ کی حکم عدولی کو حسن نیت پر محمول کر کے معاف کر دے۔ مگر وہ ان کو معاف نہ کر سکا۔ اس نے امیر موسیٰ کے ساتھ سخت سلوک کیا حتیٰ کہ ان کو قید میں ڈال دیا۔ موسیٰ بن نصیر شدید مایوسی اور ناکامی کے عالم میں اگلے ہی سال ۹۷ ھ میں وفات پاگئے ۔ بوقت وفات ان کی عمر ۷۸ سال تھی ۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1985 All issues