Al-Risala · November 1985 · page 27

نکاح و طلاق

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۵، صفحہ ۲۷

نکاح و طلاق

ایک مرد اور ایک عورت جب اپنے آپ کو نکاح کے رشتہ میں وابستہ کرتے ہیں تو ہمیشہ اسی جذبہ کے تحت وابستہ کرتے ہیں کہ دونوں ساری عمر ایک ساتھ رہیں گے اور ایک ساتھ زندگی گزاریں گے۔ اس کے بعد جب قدرت ان کے درمیان ایک بچہ پیدا کرتی ہے تو یہ گویا ایک قسم کی زنجیر ہوتی ہے جو اس بات کی ضمانت ہوتی ہے کہ دونوں زیادہ گہرائی اور پائیداری کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ ہو چکے ہیں ۔

انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (۱۹۸۴) میں مغربی ملکوں کے اعداد و شمار کی روشنی میں بتایا گیا ہے کہ بے اولاد جوڑوں میں طلاق کا رجحان اس سے زیادہ پایا گیا جتنا کہ ان جوڑوں میں جو صاحب اولاد نہیں: Childless couples tend to have a higher divorce rate than couples with children. (7/163-64)

ایک مغربی جج نے اپنے فیصلہ میں اس فطری حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا کہ ہر چھوٹا بچہ جو ایک جوڑے کے یہاں پیدا ہو وہ ایک مزید ضمانت ہے کہ ان کی شادی کسی طلاق کی عدالت میں کبھی ختم نہ ہوگی: Every little youngster born to a couple is an added assurance that their marriage will never be dissolved in a divorce court. تاہم اس قسم کی تمام فطری اور نفسیاتی بندھنوں کے باوجود کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مرد یا عورت یہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ دونوں کو ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جانا چاہیے ۔ قدیم زمانہ میں یہ صورت حال بہت کم پیش آتی تھی۔ مگر موجودہ زمانہ میں ، خاص طور پر مغربی ملکوں میں ، طلاقوں کی تعداد بہت زیادہ بڑھ گئی ہے ۔

طلاق زندگی کی ایک حقیقت ہے ۔ مگر طلاق کی کثرت بلاشبہ ایک : تنز ہے جو موجودہ زمانہ میں مختلف اسباب کے تحت پیدا ہوئی ہے ۔ ان میں سے ایک سبب عورتوں کے یہ زنگار کی آسانی بھی ہے۔ انسائیکلو پیڈیا بر ٹانیکا (۱۹۸۴) کے مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ صنعتی دورے توں کے لیے یہ بات زیادہ آسان کر دی کہ وہ اپنی معاش خود حاصل کر سکیں ، خواہ وہ تنہا ہوں یا شادی شده

‹ Previous page Next page › Contents of November 1985 All issues

Printed page