Al-Risala · November 1985 · page 2

طلاق کا حکم

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۵، صفحہ ۲

ہوں یا مطلقہ ہوں یا بیوہ ہوں۔ اس سلسلہ میں یہ بات دل چسپی کے ساتھ ٹ کرنے کی ہے کہ ۱۹۳۰ کے بعد کے زمانہ میں پیدا ہونے والی عظیم کساد بازاری نے امریکہ میں طلاقوں کے اضافہ کی تعداد کو ایک عرصہ کے لیے روک دیا تھا، Industrialization has made it easier for women to support themselves, whether they are single, married, divorced, or widowed. In this connection, it is interesting to note that the Great Depression of the 1930s stopped the rise in the number of divorces in the United States for a time. (7/163)

طلاق کا حکم

نکاح کا مسئلہ زندگی کا اصل مسئلہ ہے جب کہ طلاق کا مسئلہ صرف ایک استثناء ہے ۔ تا ہم چوں کہ ایسا استثناء بار بار پیش آتا ہے اس لیے الہی قانون اور وضعی قانون دونوں میں اس کی بابت احکام مقرر کیے گئے ہیں ۔

الہی شریعت کی صحیح اور کامل نمائندگی اب صرف وہ ہے جو قرآن کی صورت میں پائی جاتی ہے ۔ کیوں کہ قرآن ایک محفوظ کتاب ہے ۔ قرآن میں ، اور اسی طرح اس کی مستند شرح کے طور پر سنت میں ، طلاق کی بابت بہت سے احکام دیئے گئے ہیں۔ ان سب کا خلاصہ یہ ہے کہ طلاق انتہائی ناگزیر حالات میں دی جائے ۔ چنانچہ حدیث میں اس کو ابغض المباحات (سب سے زیادہ نا پسندیدہ حلال) کہا گیا ہے ۔ اور دوسری چیز یہ کہ جب طلاق کا معاملہ کیا جائے تو اس طرح کیا جائے کہ دونوں عزت اور شرافت کے ساتھ علیحدہ ہوجائیں ۔ ایسا نہ ہو کہ ایک یا دوسرے کے اندر ضد کی نفسیات پیدا ہو جائے اور وہ فریق ثانی کو بے عزت یا بے سہارا کرنے کی کوشش کرنے لگیں ۔ قرآن میں طلاق کے حکم کے ذیل میں ارشاد ہوا ہے : وسرحوهن سراحاً جميلاً (الاحزاب ۴۹) یعنی جب انہیں طلاق دے کر رخصت کرو تو نو بھلے طریقہ سے اور شریفانہ انداز سے رخصت کرو ۔

متاع کا مطلب

طلاق کے احکام میں سے ایک حکم وہ ہے جس کے لیے قرآن میں ” متاع “ کا لفظ آیا ہے ۔ اس سلسلہ میں سورہ البقرہ کی دو آیتیں حسب ذیل ہیں :

‹ Previous page Next page › Contents of November 1985 All issues

Printed page