Al-Risala · November 1985 · page 6

تہذیب جدید کا مسئلہ

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۵، صفحہ ۶

والأم على الولد من طعام وشراب باپ اور ماں لیے لڑکے کے پر واجب ہوگا، وكسوة وسكنى حتى الخادم یعنی کھانا، پینا، کپڑا، مکان، یہاں تک کہ رد المحتار على الدر المختار ، جلد ۲ ، صفحه ۹۳۳ خادم بھی۔

۳۔ اگر مطلقہ عورت کا باپ نہ ہو یا اس کی اولاد اس کی کفالت کرنے کے قابل نہ ہو تو دوسرے قریبی اور محرم اعزہ اس کی معاشی کفالت کے ذمہ دار ہوں گے ۔ مثلاً چچا، بھائی، وغیرہ۔ اگر یہ تیسری صورت بھی موجود نہ ہو تو اسلامی شریعت کی رو سے ریاست کا بیت المال اس کے اخراجات کو پورا کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔ مطلقہ عورت کو قانونی طور پر یہ حق ہوگا کہ وہ ریاست سے اس کو وصول کرے ۔

شریعت کے اسی اہتمام وانتظام کی وجہ سے اسلام کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا اور نہ آج ایسا ہے کہ مسلمان عورتیں طلاق پا کر بے سہارا اپڑی ہوئی ہوں اور کوئی ان کی کفالت اور سرپرستی کرنے والا موجود نہ ہو۔

تہذیب جدید کا مسئلہ

موجودہ زمانہ میں مغربی تہذیب نے بہت سے مسئلے پیدا کیے ہیں۔ یہ مسئلے حقیقی سے زیادہ مصنوعی ہیں۔ مغربی تہذیب نے بہت سے معاملات میں غیر فطری انداز اختیار کیا۔ اس کے نتیجہ میں غیر فطری مسائل پیدا ہوئے ۔ اس کے بعد مزید غلطی یہ ہوئی کہ انہوں نے غیر فطری طور پر ان کو حل کرنے کی کوشش کی، اس طرح مسائل میں اضافہ ہوتا چلا گیا ۔

انھیں میں سے ایک طلاق کا مسئلہ بھی ہے ۔ مغرب میں آزادی نسواں کے نام پر جو تحریک شروع ہوئی وہ اپنے ابتدائی جذبہ کے اعتبار سے بالکل غلط نہ تھی ۔ مگر اس کے علم بردار اس کی حد کو نہ جانتے تھے ۔ چنانچہ آزاد سماج بنانے کی کوشش بالآخر اباحیت پسند سماج (Permissive society) تک جاپہنچی ۔ عورتوں اور مردوں کے درمیان لامحدود اختلاط شروع ہو گیا ۔ اس نے نکاح کے بندھن کو کمزور کر دیا۔ مرد اور عورت میاں اور بیوی نہ رہے بلکہ حدیث کے الفاظ میں ذواقین اور ذواقات بن گئے ۔ اس کو مزید تقویت صنعتی دور کی اس آسانی سے حاصل ہوئی کہ عورت فورا ہی اپنے لیے آزاد معاش حاصل کر سکتی تھی ۔ جدید صنعتی معاشرہ میں ایک عورت جتنی آسانی سے اپنے لیے ذریعہ معاش حاصل کرلیتی ہے

‹ Previous page Next page › Contents of November 1985 All issues

Printed page