متاع کا مطلب
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۵، صفحہ ۳۱
اخراجات پورا کرنے کی صورت کیا ہے۔ اس کا ایک جواب اسلام کا قانون وراثت ہے۔ اسلام نے خاندانی جائیداد میں عورتوں کا جو حصہ مقرر کیا ہے اگر اس پر با قاعدہ عمل درآمد ہو تو عورت کے لیے بے سہارا ہونے کا کوئی سوال نہیں۔ خاندانی جائیداد میں عورت کا مستقل حصہ مقرر کرنا ایک اعتبار سے اسی لیے ہے کہ عورت ہنگامی حالات میں اپنی کفالت آپ کر سکے ۔
تاہم اسلام نے عورت کے معاشی مسئلہ کو تمام تر وراثت پر منحصر نہیں رکھا۔ کیوں کہ وراثت کا معاملہ ہمیشہ یقینی نہیں ہوتا۔ اس کا مزید انتظام اسلام کے قانون نفقات میں موجود ہے ۔ اس سوال کی اہمیت مسلم ہے۔ مگر اس کا تعلق قانون طلاق سے نہیں ہے بلکہ قانون نفقات سے ہے ۔ آدمی کو اس کا جواب اسلام کے قانون نفقات میں تلاش کرنا چاہیے نہ کہ اسلام کے قانون طلاق میں ۔ یہاں ہم مختصر ا چند پہلوؤں کا ذکر کریں گے :
۱۔ مطلقہ عورت اگر بے اولاد ہے یا اولاد کمانے کے قابل نہیں ہے تو اسلامی شریعت کے مطابق اس کے اخراجات کی ذمہ داری اس کے والد پر ہوگی ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہی صورت دوبارہ لوٹ آئے گی جو شادی سے پہلے تھی ۔ شادی سے پہلے باپ اپنی لڑکی کا کفیل تھا ، طلاق کے بعد دوبارہ وہ اپنی لڑکی کا کفیل ہو جائے گا ؟
فالا ناتُ عليه نَفَقَتُهُنَّ الى ان يتزوجن باپ پر اس کی لڑکیوں کا نفقہ اس وقت تک ہے اذالم يكن لهنّ مال وليسر لَّه ان يوجرھن جب تک وہ شادی نہ کریں جب کہ لڑکیوں کے فى عمل ولا خدمة وإن كان لهنّ قدرة پاس مال نہ ہو۔ اور باپ کو حق نہیں کہ وہ انھیں واذا طلقت وانقضت عدتها عادت کسی عمل یا خدمت پر لگائے ، اگر چہ ان کے اندر اس کی قدرت کیوں نہ ہو۔ اور جب لڑکی کو طلاق نفقنها على الاب فتح القدير ، جلد ۳ ، صفحه ۳۴۴ ہو جائے اور اس کی عدت پوری ہو جائے تو اس کا نفقہ دوبارہ باپ پر لوٹ آئے گا۔
۲۔ مطلقہ عورت اگر ماں ہے ۔ یعنی وہ ایسی اولاد رکھتی ہے جو صاحب معاش ہے تو ایسی صورت میں اس کے اخراجات کی پوری ذمہ داری اس کی اولاد پر ہوگی ۔
انّ جميع ما وجب للمراة وجب للاب وہ سب جو بیوی کے لیے واجب ہے وہ سب
‹ Previous page Next page › Contents of November 1985 All issues