مذہب کی حقیقت
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۵، صفحہ ۳۵
مذہب کی حقیقت
مذہب ابتدائے خدائی مذہب کے طور پر شروع ہوتا ہے اور بعد کے زمانہ میں وہ انسانی مذہب بن جاتا ہے ۔ اس میں کسی بھی مذہب کا کوئی استثناء نہیں ، حتیٰ کہ اسلام کا بھی نہیں ، اس فرق کے ساتھ کہ دوسرے مذاہب عملی طور پر بھی انسانی مذاہب بنے اور ان کی کتابیں بھی محرف ہو کر انسانی کتابیں بن گئیں ۔ جب کہ اسلام کا معاملہ یہ ہے کہ اس کو ماننے والے اگر چہ بعد کے زمانہ میں اپنے علماء اور بزرگوں سے وابستہ ہو گیے۔ مگر قرآن اور سنت کی شکل میں اس کا جو متن ہے وہ آج بھی اپنی اصلی اور ابتدائی حالت میں کامل طور پر محفوظ ہے ۔
مذہب اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے اس کا نام ہے کہ انسان اس حقیقت کو پالے کہ اس کائنات کا ایک خالق اور مالک ہے اور وہ اپنے تمام اعمال کے لیے اس خالق و مالک کے سامنے جواب دہ ہے ۔ خدا کی دریافت اور اس کے سامنے اپنی جواب دہی کے احساس سے جو زندگی بالکل لازمی نتیجے کے طور پر ابھرتی ہے اسی کا نام مذہبی زندگی ہے ۔
اس کے بعد آدمی ایک نیا آدمی بن جاتا ہے ۔ یہ دریافت آدمی کے لیے ایک ایسی عظیم حقیقت کی دریافت ہوتی ہے ، جو اس سے ذاتی بڑائی کے تمام احساسات کو چھین لے ۔ ایسا آدمی جب بولتا ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے اس کی زبان پر خدا کی لگام لگی ہوئی ہے ۔ وہ عمل کرتا ہے تو اس طرح کرتا ہے جیسے وہ خدا کی گائیڈ بک اپنے ساتھ لیے ہوئے ہے ۔ جب وہ کسی سے معاملہ کرتا ہے تو اس طرح معاملہ کرتا ہے جیسے اس کے ساتھ اس کا خدا کھڑا ہو ۔ یہی اصل مذہب ہے ۔ اور یہی وہ مذہب ہے جو تمام پیغمبروں کو دیا گیا ۔ مگر بعد کے زمانہ میں لوگ خدائی مذہب کو چھوڑ کر اپنے بزرگوں کے مذہب پر چل پڑے ۔ حتیٰ کہ مسلمانوں کا حال بھی اس معاملہ میں دوسروں سے کچھ مختلف نہیں ۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے اپنے خصوصی اہتمام کے تحت قرآن کو کامل طور پر محفوظ کر رکھا ہے ۔ جو اللہ کا بندہ خدا کی مرضی کو جاننا چاہے اسے قرآن پڑھنا چاہیے ۔ کسی اور ذریعہ سے وہ خدا کے دین کو نہیں پا سکتا ۔ دوسری کتابوں میں بگڑا ہوا دین ہے اور قرآن میں محفوظ دین ۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1985 All issues