Al-Risala · November 1985 · page 36

مذہب کی حقیقت

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۵، صفحہ ۳۶

ایک سفر

آئن سٹائن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ کسی نے ایک بار اس کو پانچ سو پونڈ کا ایک چیک دیا۔ آئن سٹائن کو اس کا کیش کرانا یاد نہ رہا۔ وہ اس چیک کو اپنے مطالعہ کے دوران بک مارک (Book mark) کے طور پر استعمال کرتا رہا۔ یہاں تک کہ اس کی مقررہ مدت گزر گئی۔ ایسا ہی کچھ معاملہ حال میں میرے ساتھ پیش آیا۔ مارچ ۱۹۸۴ میں جامعہ اسلامیہ کی دعوت پر مدینہ منورہ گیا تھا۔ اسی وقت یہ پروگرام تھا کہ واپسی کے بعد حیدر آباد کا سفر کرنا ہے۔ جامعہ اسلامیہ (مدینہ) کے ذمہ داروں نے از راہ عنایت دہلی اور حیدر آباد کے درمیان سفر کے لیے فرسٹ کلاس کا ایک ایئر ٹکٹ بنوا کر میرے حوالے کر دیا۔ اس ٹکٹ کا حوالہ نمبر یہ ہے :

065/4403/270/732 (Saudia, Medina, 10-3-1984)

یہ ٹکٹ ۱۰ مارچ ۱۹۸۴ سے ۱۰ مارچ ۱۹۸۵ تک کے لیے تھا۔ مگر دن گزرتے رہے اور میں حیدر آباد کا پروگرام نہ بنا سکا۔ اب حیدر آباد کا سفر پیش آیا تو معلوم ہوا کہ ٹکٹ کی مدت استعمال ختم ہو چکی ہے۔ ٹکٹ قانونی طور پر بیکار ہو گیا تھا۔ چنانچہ حیدر آباد کے سفر کے لیے مجھ کو دوسرا ٹکٹ لینا پڑا۔ یہ صرف میری بھول تھی۔ ورنہ مذکورہ ٹکٹ جو سعودی ایر لائنز (مدینہ) سے اشو کیا گیا تھا۔ اس پر واضح طور پر یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے : ان هذه التذكرة هي صالحة للنقل لمدة سنة واحدة من تاريخ اصدارها (یہ ٹکٹ اپنے تاریخ اجرا ء سے ایک سال تک کے لیے لائق استعمال ہے)

انسان ایک کام میں مشغول ہو تو وہ دوسرے کام کو بھول جاتا ہے۔ یہ صرف خدائے واحد کی صفت ہے کہ وہ بیک وقت ہر کام کو یاد رکھے خواہ کاموں کی فہرست کتنی ہی لمبی کیوں نہ ہو۔ دہلی سے جہاز چلنا شروع ہوا تو حسب معمول اناونسر نے اپنے اعلان میں کہا : دہلی سے حیدر آباد تک کی دوری ایک گھنٹہ ۴۵ منٹ میں پوری کی جائے گی ۔ یہ الفاظ میں نے سنے تو میرے دل نے کہا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کیسا عجیب احسان ہے کہ اس نے

‹ Previous page Next page › Contents of November 1985 All issues

Printed page