تعصب کی قیمت
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۵، صفحہ ۲
تعصب کی قیمت
اسپین یورپ کے مشرقی ساحل پر واقع ہے ۔ وہ ہزاروں برس سے ایک انتہائی پسماندہ ملک کی حیثیت رکھتا تھا۔ آٹھویں صدی عیسوی کے آغاز میں عرب مسلمان اس ملک میں داخل ہوئے۔ اس کے بعد پہلی بار اسپین کی ترقی شروع ہوئی ۔ عربوں کی آٹھ سو سالہ حکومت کے دوران اسپین نے غیر معمولی ترقی کی۔ حتیٰ کہ یورپ کے اسی پسماندہ ملک سے یورپ کی جدید شاندار ترقیوں کا آغاز ہوا۔ مگر تعصب اندھا ہوتا ہے ۔ عیسائیوں نے اپنی متعصبانہ ذہنیت کی بنا پر مسلمانوں کے کارناموں کا اعتراف نہیں کیا۔ انھوں نے اسپین کی مسلم سلطنت کے خلاف سازشیں شروع کر دیں۔ مسلمانوں کے باہمی اختلافات نے انھیں موقع دیا۔ یہاں تک کہ پندرھویں صدی عیسوی کے آخر میں اسپین سے مسلم سلطنت کا خاتمہ ہوگیا ۔ تین ملین مسلمان یا تو ملک سے نکال دیے گئے یا بے رحمی کے ساتھ مار ڈالے گیے ( ہسٹری آن دی عربس ، صفحہ ۵۵۶ )
مگر اسپین کے عیسائیوں کا یہ عمل ان کے لیے الٹا پڑا ۔ اس سے انھیں اپنے متعصبانہ ذہن کی تسکین کے سوا اور کچھ حاصل نہ ہوا ۔ مسلمانوں کے نکلنے کے بعد اسپین کبھی دوبارہ ترقی نہ کر سکا۔ مشہور مورخ لین پول نے اس کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے :
The Moors were banished; for a while Christian Spain shone, like the moon, with a borrowed light; then came the eclipse, and in that darkness Spain has grovelled ever since. Lane-Poole, Moors in Spain p. 280 اسپینی مسلمان ملک سے نکال دیئے گیے۔ عیسائی اسپین ایک لمحہ کے لیے چاند کی طرح غیر کی روشنی سے چمکا۔ پھر اس پر گرہن آگیا۔ اور اسپین اس وقت سے آج تک اسی تاریکی کی ذلت میں پڑا ہو ہے۔ ایک وقت تھا کہ مسلمانوں کا کسی ملک میں جانا وہاں ترقی کا جانا تھا اور مسلمانوں کا وہاں سے نکلنا ترقی کا نکل جانا۔ آج معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ دوسری طرف اسپین اور اس کے جیسے دوسرے ممالک کے لیے بھی اس میں سبق ہے ۔ وہ یہ کہ تعصب بقا ہر دوسرے کے خلاف کیا جاتا ہے ۔ مگر اس کی سب سے بڑی قیمت خود اس قوم کو ادا کرنی پڑتی ہے جس نے تعصب کا معاملہ کیا تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1985 All issues