Al-Risala · December 1985 · page 3

آہ یہ انسان

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۳

آہ یہ انسان

انسان خدا کو ناراض کرنے والے الفاظ بولتا ہے ، وہ بھول جاتا ہے کہ اس کا خدا اس کو دیکھ رہا ہے۔ انسان جہنمی افعال کرتا ہے ، حالانکہ جہنم کی ایک آنچ سہنے کی طاقت بھی اس کے اندر نہیں ۔ آہ ، کتنا زیادہ کمزور ہے انسان ، اس کے باوجود وہ کتنا زیادہ ڈھیٹ بنا ہوا ہے ۔

انسان کے سامنے ایک سچائی آتی ہے جس کا وہ انکار نہ کر سکے ، اس کے باوجود وہ اس کو حقارت کے ساتھ نظر انداز کر دیتا ہے۔ انسان کی غلطی دن کی روشنی کی طرح اس پر واضح کی جاتی ہے ، پھر بھی وہ اپنی غلطی کا اعتراف نہیں کرتا ۔ انسان کے پاس اپنے ناصح کو رد کرنے کے لیے کوئی دلیل نہیں ہوتی ، مگر وہ عیب جوئی اور الزام تراشی کر کے ظاہر کرتا ہے کہ ناصح اس قابل ہی نہیں کہ اس کی بات مانی جائے ۔ انسان خود ظالم ہوتا ہے اور وہ دوسرے کے ظلم کا اعلان کرتا ہے۔ انسان اپنے قدموں کے نیچے فساد برپا کیے ہوئے ہوتا ہے اور دوسروں کو مفسد قرار دے کر وہ ان کے خلاف تخریب کاری کی مہم چلاتا ہے ۔ انسان اپنے حقوق کی ادائیگی میں آخری حد تک غافل ہوتا ہے اور دوسروں کے حقوق کا جھنڈا اٹھا کر زمین و آسمان ایک کر دینا چاہتا ہے ۔

انسان اپنی قیادت کی خاطر جھوٹے نعرے لگاتا ہے ، خواہ اس کے نتیجہ میں پوری قوم ہلاکت کا شکار ہو جائے ۔ انسان اپنے کو بڑا ابن لنے کے لیے دوسروں کو چھوٹا کر دینا چاہتا ہے ، خواہ دوسرے کو چھوٹا کرنے کی یہ کوشش خدائی حقیقت کو چھوٹا کرنے کے ہم معنی کیوں نہ ہو۔ انسان خوش خیالیوں میں جیتا ہے ، حالانکہ اس دنیا میں حقیقت کے سوا کوئی چیز نہیں جہاں آدمی کو زندگی کا سایہ مل جائے ۔ انسان کا حال یہ ہے کہ وہ بالکل بے حقیقت ہوتا ہے اور اپنے کو حقیقت کے روپ میں ظاہر کرتا ہے انسان اپنی بڑائی کے گنبد کو باقی رکھنے کے لیے اپنی ساری طاقت لگا دیتا ہے حالاں کہ آخر کار جو واقعہ ہونے والا ہے وہ یہ کہ وہ اور اس کا گنبد دونوں ایک ہی مشترک قبرستان میں ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائیں ۔

انسان کو خدا نے جنت میں بسنے کے لیے بنایا تھا ، مگر انسان کو جہنم کے راستوں میں دوڑنے کے سوا کسی اور چیز سے کوئی دل چسپی نہیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1985 All issues

Printed page