حکمت کی بات
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۵
حکمت کی بات
قال ابن عباس: ما انتفعت بشئ بعد النبی صلی الله علیه وسلم انتفاعی بکلمات كتبهن الى امير المومنين على ابن ابی طالب رضی الله عنه قال : كتب الى : بسم الله الرحمن الرحيم اما بعد : فان المرء يفرح بادراك ما لم يكن ليفوته ـ ويغتم بفوت ما لم يكن ليـدركـه ۔ فاذا آتـاك الله مـن الـدنيـا شـيئـا فـلا تكثرن بـه فـرحـا . و اذا مـنعك منها فلا تكثرن عليه حزنا. وليكن همك لما بعد الموت. والسّلام حضرت عبدالله بن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جس کلام سے مجھ کو سب سے زیادہ فائدہ حاصل ہوا وہ امیر المومنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا ایک خط تھا۔ انھوں نے مجھے لکھا : بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ آدمی ایک ایسی چیز کو پا کر خوش ہوتا ہے جس کو وہ کھونے والا تھا۔ اور ایک ایسی چیز کو کھو کر غمگین ہوتا ہے جس کو وہ پانے والا تھا۔ پس جب اللہ تم کو دنیا کی چیزوں میں سے کوئی چیز دے تو تم اس کو پا کر بہت زیادہ خوش نہ ہو۔ اور جب اللہ دنیا کی چیزوں میں سے کوئی چیز تم سے روکے تو تم اس پر بہت زیادہ غمگین نہ ہو۔ اور تمہاری فکر اس چیز کے لیے ہونا چاہیے جو موت کے بعد ہے۔ والسّلام کیوں ایسا ہے کہ لوگ کوئی چیز پاتے ہیں تو اس پر ناز کرنے لگتے ہیں اور اگر وہ کوئی چیز کھوتے ہیں تو غم اور مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ پانے کو کامیابی سمجھتے ہیں اور کھونے کو محرومی ۔ حالانکہ اس دنیا میں نہ تو پانا کامیابی ہے اور نہ کھونا محرومی ۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں پانا اور کھونا دونوں امتحان کے لیے ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر آدمی کو جانچنا چاہتا ہے ۔ اسی مصلحت کے تحت وہ کبھی کسی کو ایک چیز دیتا ہے اور کبھی کسی سے کوئی چیز چھین لیتا ہے ۔ دونوں ہی کا مقصد آزمائش ہے ۔ اللہ تعالیٰ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ اس کا بندہ پا کر کیسا بنتا ہے اور کھو کر اس کا کیا حال ہوتا ہے ۔ آدمی اگر اس حقیقت کو جان لے تو پانے پر فخر و ناز کرنا بھی اس کو اتنا ہی بے معنی معلوم ہوگا جتنا کھونے پر آہ و فغاں کرنا ۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1985 All issues