بادشاہ بھی
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۶
بادشاہ بھی
دور اول میں خلافت اسلامی کو غیر معمولی پھیلاؤ ہوا۔ اس کے باوجود بنو امیہ کے عہد تک خلافت کا ایک ہی مرکز (دمشق) تھا۔ عباسی انقلاب کے بعد اندلس میں علیحدہ سلطنت قائم ہوئی۔ اس طرح حکومت اسلامی کے دو مرکز ہو گئے۔ جلد ہی بعد مراکش میں تیسرا آزاد سیاسی مرکز قائم ہوا۔ پھر مصر میں خود مختار حکومت قائم ہو گئی ۔ اس طرح ایک کے بعد ایک آزاد مسلم سلطنتیں قائم ہوتی چلی گئیں ۔ ایک عظیم مسلم سلطنت بہت سے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم ہو گئی۔
انھیں آزاد سلطنتوں میں سے ایک وہ تھی جس کو دولت سامانیہ کہا جاتا ہے ۔ سامانی سلطنت ایران میں ابھری اور تقریباً ڈیڑھ سو سال تک قائم رہ کر ختم ہو گئی ۔
اسی سامانی سلطنت کا ایک حاکم نصر بن احمد بن سامان ( ۳۰۱ - ۳۳۱ھ) تھا۔ ۔ کہا جاتا ہے کہ جب اس نے نیشا پور کو اپنی سلطنت میں شامل کیا تو نیشا پور میں داخل ہو کر وہاں اس نے ایک دربار کیا۔ جب وہ اپنے مخصوص تخت پر بیٹھا تو اس کی فرمائش کے مطابق تخت نشینی کی افتتاحی رسم قرآن کی تلاوت سے شروع ہوئی ۔ مجلس میں ایک عالم اور حافظ موجود تھے۔ انھوں نے قرآن کی تلاوت کی ۔ انھوں نے سورہ المومن کا ایک حصہ پڑھا جس میں یہ آیت بھی تھی :
يوم هم بارزون لا يخفی علی اللہ منهم جس دن کہ وہ ظاہر ہوں گے ۔ اللہ سے ان کی کوئی شئ. لمن الملك اليوم للہ الواحد چیز چھپی ہوئی نہ ہوگی۔ آج بادشاہی کس کے لیے القهار ( المومن (۱۶)
ہے ۔ اللہ واحد و قہار کے لیے ۔
مذکورہ بزرگ جب قرآن پڑھتے ہوئے اس آیت پر پہونچے تو سلطان نصر بن احمد پر لرزہ طاری ہوگیا ۔ وہ ہیبت زدہ ہو کر تخت سے اتر پڑا ۔ تاج کو اپنے سر سے اتارا اور سجدہ میں گر گیا ۔ اس نے کہا : اے میرے رب ۔ بلاشبہ بادشاہی تیری ہے نہ کہ میری ۔
سلطان کو جس چیز نے تخت سے اترنے پر مجبور کیا وہ اس کی حقیقت پسندی تھی ۔ یہ حقیقت پسندی بلاشبہ انسان کی سب سے بڑی صفت ہے ۔ حقیقت پسند انسان ہی سچائی کا اعتراف کرتا ہے ۔ حقیقت پسند انسان ہی اس دنیا میں اعلیٰ کارنامہ انجام دیتا ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1985 All issues