Al-Risala · December 1985 · page 10

زمانہ کی قسم

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۱۰

کہنے یا نہ کرنے کا معاملہ تمام تر اس کی اپنی مرضی پر منحصر ہے ، وہ چاہے تو اس کو اپنا لے اور چاہے تو نہ اپنائے۔

کائنات کے مقابلہ میں انسان کی مثال ایسی ہے جیسے ٹرین کے مقابلہ میں اسٹیشن پر کھڑے ہوئے مسافر کی۔ ٹرین اپنے تمام اجزاء سمیت انجن کے ساتھ بھاگی چلی جارہی ہے۔ ٹرین کا ہر ڈبہ انجن سے بندھا ہواریل کی پٹری پر دوڑ رہا ہے۔ مگر مسافر اور ڈبہ میں یہ فرق ہے کہ ڈبہ تو انجن سے بندھا ہوا اپنے آپ چلا جارہا ہے۔ مگر انسان اس وقت ٹرین کا مسافر بنتا ہے جب کہ وہ بالقصد اپنے کو اس کے اندر داخل کرکے اس کا شریک سفر بننے پر راضی ہو جائے۔ گویا ہم کو ٹرین کا ہم سفر بننے کے لیے تو ارادی عمل کی ضرورت ہے مگر ٹرین سے بچھڑنے کے لیے کسی عمل کی ضرورت نہیں۔ بچھڑنے کا واقعہ اپنے آپ ہورہا ہے ، ٹھیک ویسے ہی جیسے برف پگھل کر ختم ہونے کا واقعہ اپنے آپ ہورہا ہے ۔ مگر اس کو بیچ کر اس سے نفع حاصل کرنے کے لیے بالقصد عمل کی ضرورت ہے ۔ یا جیسے کسی طالب علم کے امتحان میں ناکام ہونے کے لیے تو صرف اتنی بات کافی ہے کہ وہ کچھ نہ کرے۔ لیکن اگر وہ کامیاب ہونا چاہتا ہے تو ضروری ہے کہ وہ امتحان کے نظام میں اپنے آپ کو شریک کرے اور ان تقاضوں کو پورا کرے جو تعلیم کے ذمہ داروں نے مقرر کیا ہے ۔

انسان کی زندگی کا زیادہ بڑا حصہ وہ ہے جو موت کے بعد شروع ہونے والا ہے۔ موت سے پہلے کی زندگی اس کے پورے عرصہ حیات کا محض ایک ابتدائی وقفہ ہے۔ یہی مختصر وقت انسان کا اصل سرمایہ ہے کیوں کہ اسی پر اس کی آئندہ آنے والی طویل تر زندگی کا فیصلہ ہونا ہے ۔

اس مختصر وقت کو صحیح طور پر استعمال کرنا انتہائی ضروری ہے ۔ اس میں معمولی غفلت بھی ناقابلِ تلافی نقصان کی صورت میں انسان کو بھگتنی پڑے گی ۔

اس مختصر وقت کو صحیح استعمال کرنے والا کون ہے۔ یہ وہ شخص ہے جو موجودہ دنیا میں تین باتوں کا ثبوت دے سکے ۔ ایک وہ جس کو ایمان کہا جاتا ہے ۔ یعنی حقیقت کا شعور اور اس کا اعتراف ۔ دوسرے عمل صالح ۔ یعنی عین وہی کہتا جو کرنا چاہیے اور وہ نہ کرنا جو نہیں کرنا چاہیے۔ تیسرے حق و صبر کی تواصی ۔ یعنی حقیقت کا ادراک اتنا گہرا ہو کہ آدمی اس کا داعی اور مبلغ بن جائے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1985 All issues

Printed page