Al-Risala · December 1985 · page 11

زمانہ کی قسم

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۱۱

ایک تجربہ

گجرات کی ایک مسلم برادری ہے جس کا نام مومن برادری ہے ۔ عام طور پر اس کو چلیا برادری کہا جاتا ہے ۔ یہ ایک تجارت پیشہ برادری ہے۔ ان کے افراد مختلف شہروں میں پھیلے ہوئے ہیں ۔ بمبئی میں یہ برادری تقریباً ۲۵ ہزار کی تعداد میں آباد ہے ۔

تجارت سے آدمی کے اندر ایک مخصوص کردار پیدا ہوتا ہے ۔ یہ کردار اس برادری میں پوری طرح موجود ہے ۔ مثلاً ، وہ ملازمت کرنے کے بجائے اپنی محنت سے کمانا پسند کرتے ہیں ۔ ان کی زندگی نہایت سادہ ہوتی ہے۔ حتیٰ کہ شادیوں میں ان کے یہاں جہیز کا کوئی رواج نہیں ۔ وہ سیاسی جھگڑوں سے بالکل دور رہتے ہیں ۔ ان کے درمیان باہمی اختلافات دوسرے مسلمانوں کی نسبت سے بہت کم پیدا ہوتے ہیں۔ اور اگر کوئی باہمی اختلاف پیدا ہو جائے تو وہ اپنے بڑوں کے فیصلے پر راضی ہو کر اختلاف ختم کر دیتے ہیں ۔ وہ اپنے اختلافی معاملات کے لیے کبھی عدالت نہیں نہیں جاتے ۔

چلیا برادری کے اس مزاج کی وجہ سے اس کو دینی فائدہ بھی مل رہا ہے اور دنیوی فائدہ بھی۔ اس کے مزاج کی سادگی، حقیقت پسندی ، بات کو مان لینے، کا نتیجہ یہ ہوا کہ تبلیغی تحریک کو اس نے بہت جلد قبول کر لیا ۔ تبلیغ میں شامل ہونے سے مزید ان کے اندر اعتماد اور یقین کی نفسیات پیدا ہوئی ۔ وہ ترقی کی راہ میں آگے بڑھتے چلے گئے ۔

چلیا برادری کی مذکورہ نفسیات کا دوسرا زبردست فائدہ انھیں اتحاد کی صورت میں ملا ۔ اس برادری کے لوگوں کا یہ حال ہے کہ وہ بہت جلد تجارتی شرکت کو قبول کر لیتے ہیں ۔ ان کی اکثر تجارتیں آپس کے مشترک سرمایے سے چل رہی ہیں ۔ ان کا ایک آدمی کہے گا کہ فلاں ہوٹل دس لاکھ روپے میں بک رہا ہے۔ آؤ ہم مل کر اس کو خرید لیں۔ اس کو نہایت آسانی سے سرمایہ لگانے والے افراد مل جائیں گے اور وہ مشترک سرمایے سے ہوٹل کو خرید کر اس کو منظم انداز سے چلاتے رہیں گے اور ان کے درمیان کبھی کوئی جھگڑا نہیں پیدا ہو گا ۔

موجودہ زمانہ میں کوئی بڑا کام کرنے کے لیے بڑے سرمایے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ یہ سرمایہ عام طور پر

‹ Previous page Next page › Contents of December 1985 All issues

Printed page