Al-Risala · December 1985 · page 13

جوہر شناسی

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۱۳

جوہر شناسی

علامہ ابن قیم (د ۵۷۱ - ۶۹۱ھ) نے اپنی کتاب "طریق الہجرتین" میں ایک واقعہ اس طرح نقل کیا ہے: روی عن عبد العزيز بن ابی حازم عن ابیه عن سهل بن سعد قال : تلا رسول الله صلى الله عليه وسلم قوله عز وجل: « افلا يتدبرون القرآن ام على قلوب اقفالها » وغلام جالس عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: بلى والله يا رسول الله - ان عليها لا قفالها - ولا يفتحها الا الذي ا قفلها - فلما ولى عمر بن الخطاب طلبه ليستعمله وقال : لم ذالك الآمين عقل (صفحه (۶۶)

حضرت سہل بن سعد کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے سورہ محمد کی یہ آیت تلاوت فرمائی: کیا وہ قرآن پر غور نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر اس کے تالے پڑے ہوئے ہیں۔ اس وقت ایک لڑکا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے آیت سن کر کہا: ہاں ، خدا کی قسم اے اللہ کے رسول ، بیشک دل پر اس کے تالے ہوتے ہیں۔ اور ان کو کوئی نہیں کھول سکتا سوا اس کے جس نے اس کو لگایا ہے۔ پھر جب حضرت عمر بن خطاب ؓ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے اس لڑکے کو بلایا تاکہ اس کو کسی کام پر لگائیں۔ اور انہوں نے کہا: لڑکے نے یہ جو بات کہی وہ عقل سے کہی۔

جو لوگ اجتماعی معاملات کے ذمہ دار ہوں ان کے لیے افراد کی بے حد اہمیت ہوتی ہے۔ کسی ادارہ یا کسی اجتماعی عمل کی حسن کارکردگی کے ضامن ہمیشہ اس کے افراد ہوتے ہیں۔ ایسے افراد ہمیشہ معاشرہ میں موجود رہتے ہیں مگر جن ذمہ داریوں کے ہاتھ میں افراد کے انتخاب کی ذمہ داری ہو ان کے اندر ایک صفت لازمی طور پر پائی جانی چاہیے۔ اور وہ یہ کہ وہ آدمی کے جوہر ذاتی کی بنیاد پر اس کا انتخاب کریں نہ کہ کسی اور بنیاد پر۔

ادارہ کے ذمہ دار میں اگر خویش پروری کا جذبہ ہو۔ اگر وہ خوشامدی انسانوں کو پسند کرتا ہو۔ اگر وہ یہ چاہتا ہو کہ اس کے گرد و پیش تمام لوگ اس سے کمتر صلاحیت کے ہوں تاکہ اس کی ذاتی برڑائی قائم رہے، ذمہ دار کے اندر اگر اس قسم کا مزاج ہو تو وہ ادارہ کو بے کار انسانوں کا کسب ٹ خانہ بنا دیگا اس کے برعکس اگر اس کے اندر وہ مزاج ہو جس کا ایک نمونہ اوپر کے واقعہ میں نظر آتا ہے تو اس کا ادارہ ایک ایسا باغ ہوگا جس میں ہر قسم کے بہترین درخت لگے ہوئے ہوں، اور ہمیشہ وہ اپنا پھل دیتا رہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1985 All issues

Printed page