زمانہ کی قسم
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۱۲
بینک فراہم کرتے ہیں۔ اسلام میں چونکہ سود کو حرام قرار دیا گیا ہے اس لیے بہت سے" ترقی پسند" یہ کہتے ہیں کہ اسلام اقتصادی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے کیوں کہ اقتصادی ترقی بینک کے سودی قرنتوں سے ہوتی ہے اور سودی قرضہ پر کاروبار کرنے کی اسلام میں گنجائش نہیں ۔
بمبئی کی چلیا برادری اس الزام کی عملی تردید ہے۔ چلیا برادری کا نمونہ بتاتا ہے کہ اقتصادی عمل کے لیے سودی مالیات لازمی نہیں ہیں۔ یہاں سودی مالیات کا ایک بدل موجود ہے۔ اور وہ ہے مشارکتی مالیات۔ یعنی حصہ داری کی بنیاد پر مشترک سرمایہ فراہم کرنا اور اس کے ذریعہ سے کئی آدمیوں کا مل کر کاروبار کرنا۔
یہ وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانہ میں کو آپریٹو سسٹم کہا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کو آپریٹو نظام سودی نظام کا اسلامی بدل ہے۔ مگر کو آپریٹو نظام کے تحت اقتصادی عمل جاری کرنے کے لیے ایک لازمی شرط ہے اور وہ ہے اتحاد کا مزاج۔ چلیا برادری میں یہ مزاج پوری طرح پایا جاتا ہے اس لیے ان کے درمیان تجارتی مشارکت کامیاب ہے ۔ عام مسلمانوں میں یہ مزاج موجود نہیں، اس لیے ان کے یہاں تجارتی مشارکت بھی نہیں پائی جاتی۔
اتحاد و اتفاق ایک ایسی چیز ہے جو ہر اعتبار سے مفید ہے ، دین کے اعتبار سے بھی اور دنیا کے اعتبار سے بھی۔ مگر یہی وہ سب سے قیمتی چیز ہے جو آج مسلمانوں میں سب سے کم پائی جاتی ہے۔ زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت قومی مزاج کی ہوتی ہے۔ قوم کے اندر اگر تعمیری مزاج ہو تو اس کا ہر معاملہ اپنے آپ درست ہوتا چلا جائے گا۔ اس کے اندر وہی قیادت ابھرے گی جو واقعہ صحیح قیادت ہو۔ غیر صالح قیادت اس کے اندر اپنی زمین نہ پاسکے گی۔ اس کے افراد کسی مفید کام کے لیے نہایت آسانی سے متحد ہو جائیں گے ۔ دوسری قوموں سے اس کا غیر ضروری ٹکراؤ اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔
قومی مزاج کے صالح ہونے پر ہی قوم کی تمام ترقیوں کا انحصار ہے۔ اور اگر قوم کا مزاج بگڑا ہوا ہو تو ایسی قوم کو کوئی چیز بربادی سے نہیں بچا سکتی۔ اگر آپ کو قوم کی اصلاح کرنی ہو تو اس کے مزاج کی اصلاح کر دیجیئے ۔ اس کے بعد تمام چیزوں کی اصلاح اپنے آپ ہو جائے گی۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1985 All issues