Al-Risala · December 1985 · page 15

اسلامی حکمران

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۱۵

صلاح الدین کی شاندار کامیابی اور پوری صلیبی تحریک کی سب سے زیادہ تباہ کن شکست ۲ اکتوبر ۱۱۸۷ء کو ظہور میں آئی جب کہ یروشلم ، جو کہ مسلمانوں اور عیسائیوں دونوں کے نزدیک مقدس ہے ، وہ ۸۸ برس تک مسیحیوں کے قبضہ میں رہنے کے بعد دوبارہ سلطان کی فوجوں کے قبضہ میں آگیا۔ مسیحیوں نے جب شہر پر قبضہ کیا تھا تو انھوں نے وحشیانہ طور پر اس کے باشندوں کو قتل کیا اور آزادانہ طور پر لوگوں کا خون بہایا۔ اس کے برعکس مسلمانوں کا دوبارہ قبضہ مہذب انسانوں کا قبضہ تھا ، صلاح الدین اور اس کی فوجوں نے مفتوح کے ساتھ فیاضانہ برتاؤ کیا۔

رعایا کے ساتھ سلطان صلاح الدین ایوبی کا یہ انصاف محض اتفاقی نہ تھا ۔ یہ اس کی اسلامیت کا نتیجہ تھا۔ صلاح الدین صرف ایک بہادر اور حوصلہ مند شہ سوارہی نہ تھا۔ وہ ایک خدا ترس اور عبادت گزار آدمی تھا۔ اس کا ذہن اسلامی تعلیمات کے تحت بنا تھا۔

اسلامی تعلیمات کے اثر سے سلطان صلاح الدین کا یہ حال تھا کہ وہ دنیا سے زیادہ آخرت کو اہمیت دیتا تھا۔ وہ اس بات سے ڈرتا تھا کہ قیامت میں اس سے اس کی رعایا کے بارے میں پوچھ ہوگی۔ اسلام اس کے لیے اس میں مانع بن گیا تھا کہ اس کے اندر گھمنڈ کا مزاج پیدا ہو۔ اس کے برعکس اس کے اندر زہد اور تواضع کا مزاج تھا۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (۱۹۸۷ء) کے مقالہ نگار نے سلطان صلاح الدین کے زہد و تقویٰ کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے :

---- and on March 4, 1193, he died. While his relatives were already scrambling for pieces of the empire, his friends found that the most powerful and most generous ruler in the Muslim world had not left enough money to pay for his grave. (16/178)

اور ۴ مارچ ۱۱۹۳ء کو صلاح الدین کا انتقال ہو گیا ۔ جب کہ اس کے رشتہ دار ابھی سلطنت کے ٹکڑوں کے لیے آپس میں کش کش کر رہے تھے ، اس کے دوستوں نے پایا کہ مسلم دنیا کے سب سے زیادہ طاقت ور اور سب سے زیادہ فیاض حکمراں نے اپنے پیچھے اتنی رقم بھی نہیں چھوڑی ہے جو اس کی قبر کے اخراجات کو پورا کر سکے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1985 All issues

Printed page