Al-Risala · December 1985 · page 16

مواقع کا استعمال

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۱۶

مواقع کا استعمال

اسلامی تاریخ میں صلح حدیبیہ کا واقعہ اجتماعی حکمت کی ایک عظیم الشان مثال ہے ۔ مکہ کے قریش نے اگر چہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی سخت مخالفت کی۔ مگر شروع ہی سے ان کے درمیان ایک عنصر موجود تھا جو یہ چاہتا تھا کہ ہم محمدﷺ سے براہ راست نہ ٹکرائیں۔ بلکہ ان کا رخ دوسرے عرب قبائل کی ایک مرتبہ ربرکی بنی ہوئ چپیپل یا مہمم کفتی طرف پھیر دیں۔

مرکے کاتاموں اور جوتوں کے تلوں کی صفای کردی ہا روه راء ، بد عہدناری ، بند، ان ناری ، دوری ، درب، باتی ، قاڑیا ، ماتی کتاب تو مکہ کے سرداروں میں ایک ممتاز سردار عتبہ بن ربیعہ تھا۔ ہجرت سے قبل کا واقعہ ہے کہ قریش نے ایک بار عتبہ کو اپنا نمائندہ بنا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا۔ اس ملاقات کا تفصیلی بیان سیرت کی کتابوں میں موجود ہے۔ عتبہ جب آپ سے گفتگو کے بعد واپس آیا تو اس نے قریش سے کہا : پا معشر قريش اطيعوني وخلوا بين هذا الرجل وبين ما هو فيه فاعتزلوه فان تصبه العرب فقد كفيتموه بغيكم وان يَظهَرَ عَلَى العرب فَمُلْكُهُ مَلْكُكُم وعِزُّهُ عِزُّكُم (سیرت ابن هشام، الجزء الأول ، صفحه ۳۱۴ ) اے قریش کے لوگو، میری بات مانو اور اس آدمی کے درمیان اور حبس میں وہ ہے اس کے درمیان حائل نہ ہو۔ اور اسے چھوڑ دو۔ اگر عرب اس سے نمٹ لیں تو وہ تمہارے لیے کافی ہوگیے۔ اور اگر وہ عرب پر غالب آگیا تو اس کی حکومت تمہاری حکومت ہے اور اس کی عزت تمہاری عزت ہے ۔

اسی طرح ہجرت کے بعد جب قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ بدر چھیڑنے کے لیے نکلے تو راستہ میں آپس میں مشورہ کرنے لگے۔ اس وقت عتبہ نے قریش کے ایک گروہ کی نمائندگی کرتے ہوئے مکہ والوں سے کہا :

يا معشر قريش، انكم والله ما تصنعون بان تلقوا محمداً واصحابه شيئاً. والله لئن اصبتموه لا يزال الرجل ينظر في وجه رجل يكره النظر اليه ــ قتل ابن عمه او ابن خاله اورجلا من عشيرته۔

اے قریش کے لوگو ، خدا کی قسم محمد اور ان کے اصحاب سے ٹکرا کر تم کچھ بھی حاصل نہ کر سکو گے ، خدا کی قسم اگر ان سے تمہاری مڈبھیڑ ہوئی تو ہمارے ہر آدمی کے سامنے کسی ایسے آدمی کا چہرہ ہوگا جس کو قتل کرنا اسے پسند نہ ہو۔ یعنی چچا کا لڑکا ، ماموں کا لڑکا یا اپنے قبیلہ

‹ Previous page Next page › Contents of December 1985 All issues

Printed page