تقریر حضرت مولانا اظہار الحسن صاحب
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۳۰
کا ٹیپ سننا میرے لیے اس آیت کی تفسیر بن گیا۔ سچ ہے کہ قرآن کے عجائب اور معانی کبھی ختم نہ ہوں گے ( لا تنقضی عجائبہ )
والدہ مرحومہ کا ٹیپ نطق کی شکل میں گویا ان کی زندگی کا اعادہ تھا۔ اس کو سنتے ہوئے مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں زندگی بعد موت کے امکان کا عملی تجربہ کر رہا ہوں ۔ جیسے ایک شخصیت کے وفات پانے کے بعد میرے سامنے اس کو دہرایا جا رہا ہو۔ جیسے ایک زندگی پر موت واقع ہونے کے بعد اس کے منہ سے نکلی ہوئی بات کو Replay کیا جا رہا ہو۔
نطق ( بولنا ) انسانی شخصیت کا سب سے زیادہ نمائندہ وصف ہے۔ اسی لیے انسان کو حیوان ناطق کہا جاتا ہے۔ انسان کی موت کے بعد اس کے نطق کا اس طرح کامل طور پر محفوظ رہنا اور اس کا نہایت صحیح اعادہ ممکن ہونا بتاتا ہے کہ موت کے بعد بھی زندگی باقی رہتی ہے یا کم از کم اس کو دہرایا جاسکتا ہے میری والدہ مرحومہ ہو چکی تھیں مگر وہ اپنی آواز کے روپ میں بدستور پوری طرح زندہ تھیں ۔ جب میں والدہ مرحومہ کی ٹیپ کی ہوئی آواز سن رہا تھا تو مجھے ایسا معلوم ہوا جیسے مرحومہ دوبارہ اٹھ کر پہلے کی طرح بولنے لگی ہوں ۔ اگر میں آنکھ بند کر کے سنوں تو مجھے کچھ بھی فرق معلوم نہ ہوگا۔ میرے لیے یہ ٹیپ بحث بعد الموت کا ایک مشینی نمونہ بن گیا ۔ یہ واقعہ جو آج مشینی طور پر ہو رہا ہے۔ یہی کل حقیقتی طور پر ہوگا۔ آواز کا یہ واقعہ آخرت کے واقعہ کا ابتدائی مظاہرہ ہے۔ انسانی ٹیپ خدائی ٹیپ کی پیشگی اطلاع ہے ۔
قرآن کی مذکورہ آیت میں بتایا گیا ہے کہ آسمان میں تمہارا رزق بھی ہے اور تمہاری وہ حیات ثانی بھی جس کی تم کو خبر دی جا رہی ہے۔ ٹیپ ریکارڈر کی ایجاد کے بعد یہ بات محض خبر نہیں رہی بلکہ ایک معلوم واقعہ بن چکی ہے ۔ انسانی ساخت کا ٹیپ ریکارڈر چھوٹی سطح پر اسی حقیقت کا مظاہرہ کر رہا ہے جو زیادہ بڑی سطح پر کائنات میں موجود ہے ۔ یہ بتاتا ہے کہ خدا کی کائنات ایک عظیم ریکارڈر ہے۔ انسان کی بنائی ہوئی مشین کسی انسان کے صرف جزئی پہلو کو ریکارڈ کر پاتی ہے۔ کائنات کی ریکارڈر انسان کی پوری زندگی کو انتہائی کا مل شکل میں ریکارڈ کر رہا ہے ۔ اور جب قیامت برپا ہو گی تو کائنات خدا کے حکم سے ہر انسان کا اسی طرح اعادہ کر دے گی جس طرح آج ٹیپ ریکارڈر انسان کی آواز کا اعادہ کر رہا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1985 All issues