Al-Risala · December 1985 · page 29

تقریر حضرت مولانا اظہار الحسن صاحب

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۲۹

ایک تجربہ

میری والدہ (زیب النساء) کا انتقال ۸ اکتوبر ۱۹۸۵ء کو ہوا۔ ان کے انتقال پر دو ہفتے گزر چکے تھے۔ ۲۵ اکتوبر ۱۹۸۵ء کی رات کو ساڑھے دس بجے میں اپنے دفتر میں بیٹھا ہوا کچھ پڑھ رہا تھا۔ اچانک پاس کے کمرے سے والدہ کی آواز آنے لگی۔ آواز ہو بہو والدہ مرحومہ کی تھی۔ میں حیران ہو کر اٹھا اور کمرہ میں گیا تو معلوم ہوا کہ وہاں والدہ مرحومہ کا ٹیپ بجایا جا رہا ہے۔ میرے بچوں نے ایک سال پہلے والدہ مرحومہ کی ۴۵ منٹ کی ایک گفتگو ٹیپ ریکارڈر پر ریکارڈ کر لی تھی۔ اس میں والدہ میرے بچوں کے ساتھ بات کرتی ہوئی اور ہنستی بولتی سنائی دے رہی ہیں ۔

میں بچوں کے ساتھ بیٹھ کر والدہ کا ٹیپ سننے لگا۔ میں سنتا جا رہا تھا اور میرے اوپر عجیب حالت طاری ہو رہی تھی۔ جس شخصیت کو میں ۸ اکتوبر کو خود اپنے ہاتھ سے قبر میں دفن کر چکا تھا، عین اسی شخصیت کی آواز ۲۵ اکتوبر کو بجنسہ اسی شکل میں سن رہا تھا۔ وہی لہجہ، وہی زبان، وہی انداز، عرض سب کچھ اس قدر مطابق اصل تھا جیسے کہ مرحومہ کمرہ میں بیٹھی ہوئی ہیں اور میں پہلے کی طرح ان کی اپنی آواز کو سن رہا ہوں جیسا کہ ان کی زندگی میں سنتا تھا۔

اس تجربہ نے ایک آیت کا مطلب میرے ذہن پر کھول دیا۔ سورہ الذاریات میں ان لوگوں کا جواب دیا گیا ہے جو بعث بعد الموت کے بارہ میں شبہ ظاہر کرتے تھے۔ اس سلسلہ میں فرمایا گیا ہے کہ بے شک وہ یقینی ہے، اسی طرح جس طرح تم بولتے ہو۔ یہاں آیت کے الفاظ یہ ہیں :

وَفِی السَّمَاءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوعَدُونَ - فَوَرَبِّ اور آسمان میں تمہاری روزی ہے اور وہ بھی جس کا تم السَّمَاءِ وَالارضِ اِنَّهُ لَحَقّ مثل ما انکم سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔ پس آسمان اور زمین کے تنطقون (الذاريات ۲۲- ۲۳) رب کی قسم، بے شک وہ برحق ہے اسی طرح جیسے کہ تم بولتے ہو۔

اس آیت کی تفسیر میں عام طور پر مفسرین بس اتنا کہہ کر گزر جاتے ہیں کہ وہ تمہارے نطق کی طرح برحق اور یقینی ہے (ای حق مثل نطقكم ، تفسیر انتفی) میں نے اکثر تفسیروں میں اس آیت کا مطلب تلاش کیا مگر اس کی تشریح میں اس سے زیادہ اور کچھ نہ مل سکا۔ مگر ۲۵ اکتوبر کی رات کو والدہ مرحومہ

‹ Previous page Next page › Contents of December 1985 All issues

Printed page