دلیل اور شخصیت
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۵، صفحہ ۵
دلیل اور شخصیت
قرآن میں حضرت موسیٰ اور فرعون کا قصہ مختلف مقامات پر تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ فرعون نے جب مصر کے جادوگروں کو بلایا اور حضرت موسیٰ سے ان کا مقابلہ ہوا تو یہ واقعہ پیش آیا کہ جادو گروں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں میدان میں ڈالیں۔ وہ جادو کے زور سے سانپ کی مانند چلتی ہوئی نظر آنے لگیں۔ اس وقت حضرت موسیٰ نے خدا کے حکم سے اپنا عصا ڈالا تو وہ تمام سانپوں سے بڑا سانپ بن کر میدان میں دوڑنے لگا۔ اس نے جادوگروں کے جادو کو نگل لیا۔ وہ جدھر جدھر گیا، جادوگروں کی رسیاں اور لاٹھیاں بس رسیاں اور لاٹھیاں بن کر رہ گئیں۔
یہ دیکھ کر جادوگروں نے سمجھ لیا کہ حضرت موسیٰ کا معاملہ کوئی جادو کا معاملہ نہیں ہے بلکہ وہ خدا کا معاملہ ہے۔ حضرت موسیٰ کے مظاہرے میں جادوگروں کو خدا کی معرفت حاصل ہو گئی۔ انہوں نے اسی وقت اپنے ایمان کا اعلان کر دیا۔ یہ فرعون کی کھلی ہوئی شکست تھی۔ اس نے غصہ میں آکر جادوگروں کے لئے مصر کی سخت ترین سزا کا اعلان کر دیا۔ وہ یہ کہ جادوگروں کے ہاتھ اور پاؤں کو مخالف سمتوں سے کاٹ کر انہیں تڑپا یا جائے اور پھر انہیں کھجور کے تنوں پر لٹکا کر سولی دے دی جائے۔ اس سزا کو سن کر جادوگروں کی زبان سے نکلا۔ ہم تجھ کو ان دلائل پر ترجیح نہ دیں گے جو ہمارے پاس آئے ہیں (لن نؤثرك على ما جاءنا من البينات ، طہ ۲۰ )
جادوگروں کے سامنے ایک طرف عظیم شخصیت تھی اور دوسری طرف کھلی ہوئی دلیل۔ شخصیت اور دلیل کے اس مقابلہ میں انھوں نے وہی کیا جو ایک سچے انسان کو کرنا چاہئے۔ انھوں نے شخصیت کو نظر انداز کر دیا اور دلیل کو لے لیا۔
جب آدمی کے سامنے ایسی دلیل آجائے جو بات کو اس طرح ثابت شدہ بنادے کہ وہ اس کی تردید کے لئے کوئی جوابی دلیل پیش کرنے سے عاجز رہے تو اس پر لازم ہو جاتا ہے کہ وہ دلیل کو لے لے اور اس کے خلاف شخصیتوں کو چھوڑ دے۔ دلیل کا اس طرح ظہور در اصل خدا کا ظہور ہے جو لوگ دلیل کے مقابلہ میں شخصیت کو ترجیح دیں انھوں نے گویا خدا کے مقابلہ میں غیر خدا کو ترجیح دیا۔ ایسے لوگوں کے لئے زمین و آسمان کے اندر کوئی جگہ نہیں۔ یہ غیر خدا کو اپنا خدا بنانا ہے۔ پھر خدا کی دنیا میں جو لوگ غیر خدا کو اپنا خدا بنائیں وہ کیسے یہاں کامیاب ہو سکتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1985 All issues