Al-Risala · January 1985 · page 6

خدا کے نصرت

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۵، صفحہ ۶

خدا کے نصرت

ابن ہشام نے اپنی سیرت میں مکی دور کا یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ قریش نے نضر بن حارث اور عقبہ بن ابی معیط کو مدینہ بھیجا۔ وہاں وہ یہود کے علماء سے ملے اور ان سے پوچھا کہ ہم محمد کے بارے میں بتاؤ کہ ہم ان کو کیا سمجھیں علماء یہود نے کہا کہ ان سے تم اصحاب کہف اور ذوالقرنین کا حال پوچھو۔ اگر وہ بتا دیں تو وہ نبی مرسل ہیں اور اگر نہ بتا سکیں تو وہ منقول ہیں۔

یہ لوگ مکہ واپس آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ ان چیزوں کے بارے میں ہمیں بتا ئیں۔ آپ نے فرمایا کہ تم نے جو سوال کیا ہے اس کا جواب میں تم کو کل دوں گا (اخبرکم غدا بما سألتم عنه) آپ نے یہ جملہ کہا مگر انشاء اللہ نہ فرمایا۔ آپ کو خیال تھا کہ کل کے دن جبریل آئیں گے تو میں ان سے پوچھ کر بتا دوں گا۔ مگر انشاء اللہ نہ کہنے کی وجہ سے اگلے دن وحی نہ آئی ۔ یہاں تک کہ پندرہ دن تک وحی رکی رہی۔

وحی نہ آنے کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگلے دن جواب نہ دے سکے ۔ یہ کہ کے مشرکین کے لئے سنہرا موقع تھا۔ انھوں نے لوگوں سے کہنا شروع کیا کہ محمد نے وعدہ کیا تھا مگر وہ اپنے وعدہ کو پورا نہ کر سکے ۔ دن پر دن گزرتے رہے اور آپ کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا۔ مکہ کے مشرکین نے اس کو خوب استعمال کیا۔ انھوں نے لوگوں سے کہا کہ اب ثابت ہو گیا کہ یہ پیغمبر نہیں ہیں۔ اگر وہ پیغمبر ہوتے تو ضرور اپنے وعدہ کے مطابق جواب دیتے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات دن سخت بے چینی میں گزر رہے تھے۔ ایک ایک لمحہ پہاڑ ہو رہا تھا۔ بظاہر یہ سراسر آپ کے خلاف بات تھی۔ مگر اللہ تعالی نے اس کو زبردست طور پر آپ کے موافق بنا دیا۔ وہ یہ کہ پندرہ دن وحی رکنے کی وجہ سے قریش نے سارے شہر میں اتنا پروپیگنڈا کیا کہ ایک ایک آدمی اس معاملہ سے باخبر ہو گیا۔ ہر آدمی کو اشتیاق ہو گیا کہ وہ جانے کہ اس کی بابت محمد کیا کہتے ہیں گویا مکہ والوں نے بہت بڑے پیمانے پر سننے کی فضا بنا دی۔ چنانچہ پندرہ دن کے بعد جب سورہ کہف اتری ۔ اور اس میں اصحاب کہف اور ذوالقرنین کا قصہ تفصیل سے بیان ہوا تو سارے لوگ اس کو سننے کے لئے دوڑ پڑے سورہ کہف کے اترتے ہی وہ سارے شہر میں ایک ایک آدمی کی زبان پر تھی۔ جو تبلیغ مہینوں میں ہوتی وہ صرف ایک دن میں ہوگئی ۔ اگر اللہ چاہے تو وہ اپنے کسی بندہ کی غلطی کو بھی صحت کے خانہ میں ڈال دے۔ وہ اس کے ناموافق حالات کو موافق حالات میں تبدیل کر دے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1985 All issues

Printed page