Al-Risala · December 1985 · page 34

دین کی نصرت کرنے والے

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۳۴

دین کی نصرت کرنے والے

عن ابي الوليد عبادة بن الصامت رضى الله عنه قال : بايعنا رسول الله صلى الله عليه وسلم على السمع والطاعة في العسر واليسر والمنشط والمكره وعلى اثرة علينا وعلى ان لا ننازع الامر اهله الا ان تروا كفرا بواحا عندكم من الله فيه برهان وعلى ان نقول بالحق اينما كنا لا نخاف في الله لومة لائم . ( متفق عليه )

حضرت عبادہ بن صامت انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اس پر کہ ہم سنیں گے اور مانیں گے تنگی میں بھی اور آسانی میں بھی۔ پسند میں بھی اور ناپسند میں بھی۔ اور اس پر کہ ہمارے اوپر (دوسروں کو) ترجیح دی جائے ۔ اور اس پر کہ ہم صاحب حکم سے حکم میں نزاع نہ کریں گے الا یہ کہ تم کھلم کھلا کفر دیکھو جس کے لیے تمہارے پاس خدا کی طرف سے برہان ہو۔ اور یہ کہ ہم حق کے ساتھ بولیں گے خواہ ہم جہاں جہاں ہوں۔ ہم اللہ کے معاملہ میں ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔

"بیعت" کے لفظی معنی بیچنے کے ہیں۔ اس سے مراد وہ عہد ہے جو ایک فرد اجتماعی ذمہ دار کے ساتھ اجتماعیت پر قائم رہنے کے لیے کرتا ہے۔ عہد اجتماعیت کو بیعت سے تعبیر کرنا اس کی شدت کو بتا رہا ہے ۔ گویا بیعت سے وابستہ ہونے کے بعد فرد اپنی ذات کو اجتماعیت کے ہاتھ بیچ دیتا ہے ۔ اس کے بعد اس کی ذات اپنی نہیں رہتی بلکہ اجتماعی ادارہ کی ہو جاتی ہے۔

مذکورہ بیعت مدینہ کے مسلمانوں سے لی گئی جن کو انصار کہا جاتا ہے۔ یعنی خدا کے دین کی مدد کرنے والے۔ اس وقت اسلام کا قافلہ بالکل لٹی ہوئی حالت میں تھا۔ ایسے نازک وقت میں مدینہ کے اہلِ ایمان نے اس کی غیر مشروط مدد کرنے کا عہد کیا اور پھر ساری زندگی اس پر قائم رہے ۔ انھوں نے نصرتِ دین کو اس کے آخری تقاضوں کی حد تک انجام دیا اسی لیے وہ خصوصی طور پر " انصار " کہے گئے۔ مدینہ کے مسلمانوں سے جن الفاظ میں نصرت دین کی بیعت لی گئی اس پر غور کیجئے ۔ اس میں تمام وہ باتیں ہیں جن کی وجہ سے لوگ "بیعت " توڑ دیتے ہیں ، جن کو عذر بنا کر وہ اجتماعیت سے الگ ہو جاتے ہیں

‹ Previous page Next page › Contents of December 1985 All issues

Printed page