Al-Risala · December 1985 · page 35

دین کی نصرت کرنے والے

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۳۵

ایسی چیزوں پر سمع و طاعت کی پابندی کا اقرار کرانے کا مطلب یہ ہوا کہ ________ ساتھ دینے والے حالات میں بھی ساتھ دو۔ وہ مواقع جن کے پیش آنے پر عام آدمی بدک جاتا ہے ان کے پیش آنے کے بعد بھی دینی قافلہ سے جڑے رہو۔ جن شکایتوں کو عذر بنا کر لوگ الگ ہو جاتے ہیں ان شکایتوں کے باوجود اتحاد و تعاون کو نہ چھوڑو۔

وہ لوگ جن کا حال یہ ہو کہ آسانی میں ساتھ دیں اور مشکل کے وقت ساتھ نہ دیں۔ وہ اس وقت تک ٹھیک رہیں جب تک معاملہ ان کی پسند کے مطابق ہو اور جب معاملہ ان کی پسند کے خلاف ہو تو بگڑ کر الگ ہو جائیں۔ جو ہمیشہ اپنے آپ کو اگلی نشست پر دیکھنا چاہیں اور پہلی نشست پر بیٹھنا انھیں گوارا نہ ہو۔ جو عہدوں کی ایسی تقسیم کو قبول نہ کریں جس میں خود ان کی ذات کو اعلیٰ عہدہ نہ دیا گیا ہو۔ ایسے لوگ کبھی دین کی نصرت کی توفیق نہیں پاتے۔ ایسے لوگ صرف اپنی تاریخ بناتے ہیں۔ دین کی تاریخ بنانا ان کے لیے مقدر نہیں۔

ایسا ممکن ہے کہ کوئی شخص اپنے خیال کے مطابق نا انصافی محسوس کرے ۔ وہ ایک چیز کو دیکھے اور بطور خود یہ سمجھے کہ یہ حق کے خلاف ہو رہا ہے۔ ایسے مواقع پر وہ اظہار خیال کر سکتا ہے۔ وہ سنجیدہ انداز میں نا انصافی کو بیان کر سکتا ہے۔ مگر نا انصافی کے نام پر اجتماعیت سے کٹنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ فرد کو صرف ”قول“ کا حق ہے، اس سے آگے اسے کوئی حق حاصل نہیں ۔

بیعت میں مزید یہ کہلایا گیا ہے کہ قافلہ اسلام کے امیر کی اطاعت سے تم صرف اس وقت نکل سکتے ہو جب کہ تم اس کے اندر علانیہ کفر کا مشاہدہ کرو۔ اب اگر اس حقیقت کو سامنے رکھا جائے کہ ایسے کفر کا واقعہ شاذ ہی کبھی پیش آتا ہے تو الشاذ کالمعدوم کے اصول پر اس کا مطلب عملاً یہ قرار پاتا ہے کہ تم کبھی بھی امیر کی اطاعت سے نہ نکلو۔ تم کسی حال میں بھی اس کی نافرمانی نہ کرو۔ اجتماعی زندگی فرد کی موت پر قائم ہوتی ہے۔ بہت سے افراد جب یہ عہد کرتے ہیں کہ وہ اجتماعیت کی خاطر اپنی رائے کو قربان کر دیں گے۔ وہ اپنے آپ کو حذف کر کے اجتماعیت کا ساتھ دیں گے، اسی وقت یہ ممکن ہوتا ہے کہ کوئی حقیقی اجتماعیت وجود میں آئے۔

ایسے ہی لوگ اسلام کو زندہ کرتے ہیں۔ جن کے اندر یہ صفات نہ ہوں وہ صرف اسلام کو برباد کریں گے، وہ اس کے زندہ کرنے والے نہیں بن سکتے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1985 All issues

Printed page