Al-Risala · December 1985 · page 39

قرآن اور سائنس

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۳۹

قرآن اور سائنس

1984 کے آخر میں ایک خبر مختلف اخبارات میں آئی تھی۔ کناڈا کے اخبار سٹی زن (۲۲ نومبر ۱۹۸۴) نے اس کی سرخی ان الفاظ میں لگائی :

قدیم مقدس کتاب اپنے وقت سے 14 سو سال آگے

نئی دہلی کے اخبار ٹائمز آف انڈیا (۱۰ دسمبر ۱۹۸۴) میں یہ خبر حسب ذیل سرخی کے ساتھ چھپی : قرآن جدید سائنس پر بازی لے جاتا ہے جنینیات کے ایک عالم جن کا تعلق کناڈا کی ٹورانٹو یونیورسٹی سے ہے، انھوں نے سعودی عرب کے کئی سفر کیے ہیں تاکہ قرآن کی کہی آیتوں کی تشریح کرنے میں مدد کریں۔ یہ آیتیں وہ ہیں جن میں انسانی جنین کے ارتقار کا ذکر ہے ۔

یہ ڈاکٹر کیتھ مور ہیں۔ ان کی تحقیقات جو ٹیسٹ ٹیوب بے بی کے موجد ڈاکٹر رابرٹ ایڈیورڈ ٹس سے مطابقت رکھتی ہیں، ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن کی متعلقہ آیتیں انسانی جنین کے درجہ بدرجہ ارتقا کا نہایت صحیح بیان ہیں۔ یہ چیز وہ ہے جس کا ذکر مغربی ماہرین نے پہلی بار ۱۹۸۱ میں کیا تھا۔ اور اس سلسلہ کی اکثر تفصیلات صرف پچھلے پندرہ برسوں میں علمی طور پر ثابت کی جاسکی ہیں۔ ڈاکٹر مور نے لکھا ہے کہ 14 سو سالہ قدیم قرآن میں خلینی ارتقار کے بارے میں اس قدر درست بیانات موجود ہیں کہ مسلمان معقول طور پر یقین کر سکتے ہیں کہ وہ خدا کی طرف سے اتاری ہوئی کتاب ہے ۔

یہ دو برس پہلے کی بات ہے، ٹورانٹو یونیورسٹی کے ایک ماہر جنینیات ایک غیر معمولی سائنسی مشن پر سعودی عرب گئے۔ ان سے قرآن کی چند آیات کی تشریح میں مدد چاہی گئی تھی ۔ یہ ڈاکٹر کیتھ مور تھے ــــــــ اولین ٹیسٹ ٹیوب بچے کی پیدائش کے محقق ڈاکٹر ایڈیورڈ نے بھی ان کی توجیحات کی تصدیق کر دی تھی۔ ان دونوں سائنس دانوں نے مسلم علما کو آیات قرآنی کے بارے میں اپنی دریافت سے حیران کر دیا تھا۔ وہی قرآن جس کو مسلمان تیرہ سو برس سے حفظ اور تلاوت کرتے چلے آرہے ہیں ۔

جو انھوں نے دریافت کیا تھا وہ یہ تھا کہ قرآن میں انسانی جنین کا جو نظریہ بیان کیا گیا ہے وہ اب ایک ناقابل تردید صداقت بن کر سامنے آیا ہے اور یہ کہ مغربی محققین پر اس حقیقت کا انکشاف ۱۹۸۱ میں ہوا

‹ Previous page Next page › Contents of December 1985 All issues

Printed page