قدیم مقدس کتاب اپنے وقت سے 14 سو سال آگے
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۴۱
چاروں ماہرین کو قرآن کی متعدد آیات کے انگریزی میں تراجم پیش کیے اور ان سے رائے مانگی کہ آیا ان کی کوئی سائنسی تعبیر ہو سکتی ہے؟ ایک آیت جو پیش کی گئی وہ یہ تھی :
"وہ تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں تین تین تاریک پر دوں کے اندر تمہیں ایک کے بعد ایک شکل دیتا چلا جاتا ہے " ( الزمر 6)
ڈاکٹر مور کہتے ہیں کہ ان تین تاریکیوں کے بارے میں بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ ان سے مراد پیٹ کی دیوار، رحم مادر کا پردہ اور بچے دانی کی اندرونی جھلی ہے ۔ ایک دوسری آیت میں بتایا گیا ہے کہ بعد میں بوند کو خون کے لوتھڑے (مضغہ) میں تبدیل کر دیا جاتا ہے ۔ عربی میں مضغہ کا لفظ جو نک کے لیے آیا ہے ۔ ڈاکٹر مور اور دوسرے ماہرین کا خیال ہے کہ عرب میں پائی جانے والی جو تک اور ۲۴ دن کے جنین میں حیرت انگیز طور پر مشابہت پائی جاتی ہے مزید یہ کہ اس مرحلے پر جنین رحم کی دیوار سے جو نک کی طرح لپٹ جاتا ہے ۔ آگے کی ایک آیت کہتی ہے کہ یہ جو نک نما مضغہ بعد میں چبائی ہوئی چیز کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اس مرحلے پر جنین کی شکل کی وضاحت کرنے کے لیے ڈاکٹر مور نے پلاسٹک کی ایک چھوٹی سی چیز تیار کی اور پھر اسے اپنے دانتوں سے چبایا یا اور پھر اسے بتایا کہ ۲۸ روز کے جنین کی شکل ہو بہو ایسی ہوتی ہے اور اس پر جو نشانات پائے جاتے ہیں وہ بھی دانتوں کے نشانوں کے مماثل ہوتے ہیں ۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس مرحلے پر جسم کے چند ہی اعضا کی شناخت ہو سکتی ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ صرف دل اور آنکھوں کے حد سے کی پہچان ممکن ہوتی ہے ۔
ڈاکٹر مور نے کہا کہ آیات قرآنی کہتی ہیں کہ تیزی سے نکلنے والے مادہ منویہ کے ایک انتہائی مختصر حصے میں بار آور کرنے کی صلاحیت رکھنے والا عنصر پایا جاتا ہے ۔ ڈاکٹر مور نے اپنے مقالہ میں بتایا کہ جس حقیقت کی نشاندہی اسپیلن زینی نے اٹھارہویں صدی عیسوی میں کی جب اس نے تجرباتی طریقے سے ثابت کیا کہ جب تک کہ نراور مادہ کے جنسی تولیدی عناصر کی باہم آمیزش نہ ہو حیاتیاتی نمو نہیں ہو سکتی ۔ قرآن نے اس سے گیارہ صدیاں پہلے مخلوط قطرہ (نطفہ امشاج ) کی نشاندہی کر دی اور بتایا کہ مرد اور عورت کے نطفوں کے باہمی ملاپ سے انسان کی تخلیق ہوتی ہے ۔ اسی طرح مار مہین کے ذیل میں یہ اشارہ موجود ہے کہ کس طرح ابتدائی حقیر بوند میں آدمی کا جامع نقشہ موجود ہو تا ہے ۔ یہ بوند مستقبل کے تمام کردار اور خصوصیات کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہوتی ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1985 All issues