ایک امکان
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۴۳
پاس جاتے اور اس کے سامنے اسلام پیش کرتے۔ پھر کوئی مانتا اور کوئی انکار کر دیتا۔ دیگر اصحاب بھی اسی اسوہ پر عمل کرتے۔
موجودہ زمانہ میں مجموعی اعتبار سے عرب ملکوں کی یہی صورت ہو رہی ہے۔ یہاں دنیا بھر سے لاکھوں کی تعداد میں لوگ آرہے ہیں۔ ان میں بہت بڑی تعداد غیر مسلموں کی ہوتی ہے۔ یہ لوگ معاش کے حصول کے لیے یا دوسرے مقاصد کے لیے عرب ملکوں میں آتے ہیں ۔ اس طرح دوبارہ زیادہ بڑے پیمانہ پر وہی موقع پیدا ہو گیا ہے جو قدیم زمانہ میں رسول اور اصحاب رسول کو حاصل تھا۔ آج ضرورت ہے کہ عرب ممالک میں نہایت خاموش اور نہایت منظم انداز میں اسی طرح لوگوں کے سامنے دین حق کی دعوت پیش کی جائے جس طرح دور اول میں پیش کی گئی تھی۔ انہیں بتایا جائے کہ تم لوگ یہاں پٹرول ڈالر کے لیے آئے ہو، مگر ہمارے پاس تمہارے لیے اس سے بھی زیادہ بڑی چیز ہے۔ وہ اللہ کا سچا دین ہے جو آدمی کے لیے جنت میں داخلہ کی ضمانت ہے ۔ پٹرول ڈالر تمہارے معیار زندگی کو کچھ بڑھا سکتا ہے۔ مگر خدا کا سچا دین اختیار کر کے تم اپنی ابدی زندگی کو لامحدود طور پر کامیاب کر سکتے ہو۔ اگر ایسا کیا جائے تو یقین ہے کہ ان میں " ایاس بن معاذ " کی طرح ایسے لوگ نکلیں گے جو کہہ پڑیں کہ اى قوم ، هذا والله خير مما جئتم له (اے لوگو، یہ اس سے بہتر ہے جس کے ارادہ سے تم یہاں آئے ہو) اس طرح یہ ہوگا کہ عرب دنیا جو آج لوگوں کے لیے صرف پٹرول ڈالر حاصل کرنے کا ذریعہ بنی ہوئی ہے وہ اس سے زیادہ بڑی دولت ، دین حق کی دولت حاصل کرنے کا ذریعہ بن جائے گی ۔ اطلاعات بتاتی ہیں کہ اس وقت بھی عرب دنیا میں لوگ اسلام قبول کر رہے ہیں۔ بیرونی ملکوں کے جو لوگ عرب ممالک میں تلاش روزگار کے لیے جاتے ہیں وہ اپنی معاشی ضرورت کے تحت عربی زبان سیکھتے ہیں ۔ وہ اسلامی تہذیب کا مطالعہ کرتے ہیں ۔ وہ عربوں سے میل ملاپ کے دوران اسلام کے بارہ میں معلومات حاصل کرتے ہیں۔ اس طرح ان کی ایک تعداد اسلام سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر لیتی ہے ۔
یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کسی دعوتی جدوجہد کے بغیر اسلام قبول کر رہے ہیں۔ اب اگر باقاعدہ طور پر دعوت و تبلیغ کی جدوجہد شروع کی جائے اور اس کو حکیمانہ انداز میں چلایا جائے تو یہ رفتار یقینی طور پر بہت زیادہ بڑھ جائے گی ۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1985 All issues