Al-Risala · December 1985 · page 44

سب سے بڑی خبر

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۴۴

سب سے بڑی خبر

۳۰ جون ۱۹۸۵ گوالیار کے لیے ایک تاریخی دن تھا۔ آج یہاں کے فوجی ہوائی اڈہ پر خصوصی سرگرمیاں دکھائی دے رہی تھیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہندوستان نے جدید طرز کا جنگی جہاز (2000 Mirage) جو فرانس سے خریدا ہے اس کو ہندوستانی ہوائیہ میں شامل کرنے کی رسم یہاں ادا کی جانے والی تھی ۔

ہندوستان کے ۱۲ ویں ائیر چیف مارشل ایل ایم کتری (۱۹۸۵ - ۱۹۷۷) آج بہت خوش دکھائی دے رہے تھے۔ انھوں نے اس تقریب میں پورے جوش کے ساتھ شرکت کی ۔ مگر ائیر چیف مارشل اس شاندار تقریب سے دہلی واپس لوٹے تھے کہ ان پر دل کا دورہ پڑا ۔ انھیں تیزی سے فوجی اسپتال لے جایا گیا جہاں چند گھنٹہ بعد یکم جولائی ۱۹۸۵ء کو ان کا انتقال ہو گیا ۔ خبروں میں بتایا گیا ہے کہ ائیر چیف مارشل ایل ایم کتری لائق ترین پائلٹ تھے (Ablest fighter pilot) تھے ۔ انھوں نے کئی جنگوں میں دشمن کے خلاف فضائی لڑائی کا شاندار ریکارڈ قائم کیا تھا ۔ مگر دشمن کے پرشور جنگی جہازوں کو مار گرانے والا شخص موت کے خاموش حملہ کا مقابلہ نہ کر سکا۔ وہ شخص جس نے فضا میں بلند ہو کر اعلیٰ جنگی فتوحات حاصل کی تھیں وہ زمین پر موت کے خلاف جنگ میں اس طرح شکست کھا گیا جیسے کہ اس کے مقابلہ کے لیے اس کے پاس کوئی طاقتی ہی نہیں ۔

طاقت اور بے طاقت کا یہ مقابلہ ہر روز کسی نہ کسی شکل میں زمین پر پیش آتا ہے ۔ ہر روز کوئی ائیر چیف مارشل "موت کے خاموش حملہ کے مقابلہ میں یک طرفہ شکست کھا جاتا ہے۔ اور اس طرح اپنے تجربہ کی صورت میں دوسروں کے لیے ایک اعلان کرتا ہے ، اس حقیقت کا اعلان کہ انسان ایک ایسی دنیا میں ہے جہاں ہر فتح بالآخر شکست پر ختم ہوتی ہے ۔ زندگی اختیار سے بے اختیاری کی طرف سفر ہے ۔ موت آدمی کو اسی حقیقت کی خبر دیتی ہے ۔ مگر یہی خبر ہے جو آج کسی کو معلوم نہیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1985 All issues

Printed page