سارا خون
الرسالہ، فروری ۱۹۸۵، صفحہ ۱۲
سارا خون
پروفیسر پال ڈیر اک (Paul Dirac) ۱۹۰۲ میں پیدا ہوئے۔ اکتوبر ۱۹۸۴ میں انھوں نے ۸۲ سال کی عمر میں فلوریڈا میں وفات پائی۔ وہ جدید دور میں نیوٹن اور آئن سٹائن کے بعد سب سے زیادہ ممتاز سائنس داں سمجھے جاتے ہیں۔ ان کو نوبل انعام اور دوسرے بہت سے اعزازات حاصل ہوئے۔
پال ڈیر اک کے نام کے ساتھ کوانٹم میکانیکل تھیوری منسوب ہے۔ یہ سائنسی نظریہ ایٹم کے انتہائی چھوٹے ذرات سے بحث کرتا ہے۔ انھوں نے سب سے پہلے اینٹی میٹر کی پیشین گوئی کی جو بعد کو مزید تحقیقات سے ثابت ہوگیا۔ چنانچہ گارلوئین (۳ دسمبر ۱۹۸۷) نے پال ڈیر اک پر مضمون شائع کرتے ہوئے اس کی سرخی حسب ذیل الفاظ میں قائم کی ہے:
Prophet Of the Anti-Universe
پال ڈیر اک نے ایٹم میں پہلا اینٹی پارٹیکل دریافت کیا جس کو پازیٹران (Positron) کہا جاتا ہے۔ اس دریافت نے نیوکلیئر فزکس میں ایک انقلاب برپا کر دیا ہے۔ لوگ جب پال ڈیر اک سے پوچھتے کہ آپ نے تخت ایٹم مادہ کی نوعیت کے بارہ میں اپنا چونکا دینے والا نظریہ کیسے دریافت کیا تو وہ بتاتے کہ وہ اپنے مطالعہ کے کمرہ میں اس طرح فرش پر لیٹ جاتے تھے کہ ان کا پاؤں اوپر رہتا تاکہ خون ان کے دماغ کی طرف دوڑے :
When people asked him how he got his startling ideas about the nature of sub-atomic matter, he would patiently explain that he did so lying on his study floor with his feet up so that the blood ran to his head. بظاہر یہ ایک لطیفہ ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ کوئی بڑا فکری کام وہی شخص کر پاتا ہے جو اپنے سارے جسم کا خون اپنے دماغ میں سمیٹ دے۔
بیشتر لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی قوت کو تقسیم کئے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو ایک مرکز پر کیوں نہیں کرتے اس لئے وہ ادھوری زندگی گزار کر اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ ہر کام آدمی سے اس کی پوری قوت مانگتا ہے۔ وہی شخص بڑی کامیابی حاصل کرتا ہے جو اپنی پوری قوت کو ایک کام میں لگا دے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1985 All issues