حج کا پیغام
الرسالہ، فروری ۱۹۸۵، صفحہ ۱۶
آئے۔ ان واقعات کو حاجی علامتی طور پر دہراتا ہے اور اس طرح یہ عہد کرتا ہے کہ وہ بھی اسی تاریخ کا جز بسنے گا۔
حاجی گویا یہ عہد کرتا ہے کہ اگر ضرورت پیش آئی تو وہ اپنی دنیا کو اجاڑ کر حق کی طرف بڑھے گا۔ وہ آرام و راحت کو چھوڑ کر قناعت اور سادگی پر اپنے آپ کو راضی کرے گا۔ وہ خدا کے لئے دوڑے گا اور خدا کے گرد گھومے گا۔ وہ شیطانی بکاؤں کو پتھر مار کر اپنے سے دور بھگائے گا۔ خدا کا دین اس کو جہاں لے جائے وہاں وہ جائے گا۔ اور جس چیز کا تقاضا کرے گا اس کو وہ اس کے حوالے کردے گا۔ وہ عمل کی زبان میں خدا سے کہتا ہے کہ اگر دوبارہ دین کے لئے ضرورت پیش آئی تو وہ اس آخری حد تک جانے کے لئے تیار ہے کہ اپنی اولاد کو ذبح کرکے دین کی ضرورت پوری کرے۔
حضرت ابراہیم کا عراق سے چل کر مکہ آنا اور یہاں مذکورہ واقعات کا پیش آنا ایک عظیم خدائی منصوبہ تھا، جو ڈھائی ہزار سال میں بروئے کار لایا گیا ۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اب سے پانچ ہزار سال پہلے انسانی ذہنوں پر شرک کا اتنا غلبہ ہوگیا تھا کہ زندگی کا کوئی شعبہ شرک سے خالی نہ تھا۔ یہ صورتِ حال نسل در نسل جاری رہی ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انسانی نسلوں میں شرک کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اس زمانہ کی آبادیوں میں جو شخص بھی پیدا ہوتا وہ شرک کا ذہن لے کر پیدا ہوتا اور اسی پر اس کی پوری اٹھان ہوتی۔ اس بنا پر پیغمبروں کی توحید کی دعوت کسی طرح لوگوں کو اپیل نہیں کرتی تھی۔
اب خدا نے یہ منصوبہ بنایا کہ انسانوں کی ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو مشرک انہ ماحول سے الگ ہوکر پرورش پائے تاکہ وہ مشرکانہ تسلسل سے آزاد ہو کر سوچ سکے۔ اس کے لئے شہری آبادیوں سے دور ایک غیر آباد مقام ہی مناسب ہو سکتا تھا۔ چنانچہ اس مقصد کے لئے عرب کے خشک علاقہ کا انتخاب کیا گیا جو اس زمانہ میں آباد دنیا سے الگ تھلگ بالکل غیر آباد حالت میں پڑا ہوا تھا۔ اب اس بے آب و گیاہ علاقہ میں ایک نئی نسل تیار کرنے کے لئے وہ پہلا انسان درکار تھا جو موت کی قیمت پر وہاں بنے کے لئے تیار ہو۔ اس نازک موقع پر حضرت ابراہیم کو خواب دکھایا گیا کہ آپ اپنے نوجوان بیٹے اسماعیل کو ذبح کر رہے ہیں۔ یہ جسمانی ذبح حقیقۃً صحرائی ذبح کی تمثیل تھی ۔ اس کے ذریعہ یہ دیکھنا مقصود تھا کہ کیا ابراہیم اس کے لئے تیار ہیں کہ وہ اپنے آپ کو خدائی منصوبہ میں اس طرح شامل کریں کہ اپنی محبوب اولاد کو لے جاکر حجاز میں بسا دیں جہاں خشک پہاڑوں اور رتیلے صحراؤں کے سوا اور کچھ نہیں۔ اس زمانہ میں حجاز میں بسنا موت کی وادی میں بسنے کے ہم معنی تھا۔
قدیم زمانہ میں حجاز اسی لئے غیر آباد پر اسرار ہا کہ وہاں پانی اور سبزہ نہ تھا۔ قدیم حجاز کا مشر کا نہ تمدن
‹ Previous page Next page › Contents of February 1985 All issues