حج کا پیغام
الرسالہ، فروری ۱۹۸۵، صفحہ ۱۷
سے پاک رہنا اسی لئے ممکن ہوا کہ وہ زندگی سے سامان سے خالی تھا۔ قدیم حجاز کی وہ خصوصیت جس نے اس کو مشرک انسانوں سے خالی رکھا تھا، اسی نے اس کو اس قابل بنا دیا کہ وہاں موحدین کی ایک نئی نسل تیار کی جائے۔ حضرت ابراہیم کا اپنے نوجوان بیٹے (اسماعیل) کے گلے پر چھری رکھنا اس بات کا اظہار تھا کہ وہ اس قربانی کے لئے آخری طور پر تیار ہیں۔ چنانچہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کو اس منصوبہ خداوندی کے لئے چن لیا گیا اور ان کو قدیم حجاز کے الگ تھلگ علاقہ میں بسا کر نئی نسل تیار کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا۔ حضرت ابراہیم نے اسماعیل کی نسل میں ایک پیغمبر پیدا ہونے کی دعا کی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دعا کے نتیجے میں پیدا ہوئے۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، دعا اور اس کی قبولیت کے درمیان ڈھائی ہزار سال کا فاصلہ ہے۔ اس تاخیر کا سبب یہ ہے کہ اس مدت کے دوران وہ نسل تیار کی جا رہی تھی جو شرک کے تسلسل سے منقطع ہو کر سوچ سکے اور صحرائی تربیت کے نتیجہ میں جس کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ وہ پیغمبر کا ساتھ دے کر اس مشن کو تکمیل تک پہنچا سکے۔ اسی لئے اس گروہ کو "خیر امت" کہا گیا۔ یہ امت تاریخ کی انوکھی امت ہے۔ ابتداً ضرور اس کی ایک تعداد پیغمبر کی دشمن ہو گئی۔ مگر جب اس کی سمجھ میں آگیا تو اس نے بھر پور طور پر آپ کا ساتھ دیا۔
اس طرح جو نسل بنائی گئی اس کے اندر اگر چہ بعد کو اطراف کی دنیا کے کچھ شرک کے اثرات آگئے۔ مگر بنیادی طور پر وہ ایک محفوظ نسل تھی۔ کچھ ناقص افراد کو چھوڑ کر وہ لوگ صحیح فطرت پر قائم تھے۔ انھوں نے ابتداً پیغمبر کی مخالفت بھی کی ۔ مگر اس کا سبب زیادہ تر نا سمجھی تھا۔ جب ان کی سمجھ میں آ گیا کہ واقعی یہ پیغمبر ہیں اور ان کا دین برحق ہے تو ان کی مخالفت دوبارہ موافقت میں تبدیل ہو گئی۔ وہ بھر پور طور پر آپ کے ساتھی بن گئے۔
حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے کو "ذبح " کر کے جو نسل تیار کی اس کا سب سے زیادہ نمایاں وصف یہ تھا کہ وہ آزاد ذہن کے ساتھ حقیقت کو دیکھ سکتی تھی اور اس کا اعتراف کر سکتی تھی۔ حقیقت واقعہ کو مان لینے کی صلاحیت اس کے اندر کامل درجہ میں موجود تھی۔ یہاں اس سلسلہ میں تین مختلف مثالیں نقل کی جاتی ہیں۔ ایک شخص وہ جس نے حق کو سنتے ہی اسے مان لیا۔ دوسرا وہ جس نے ابتداً انکار کیا مگر جب بات سمجھ میں آگئی تو اس نے اعتراف میں دیر نہیں کی۔ تیسرا وہ جس نے اگر چہ اپنی سرداری کی خاطر اعتراف نہیں کیا مگر وہ بھی اس صفت عام سے خالی نہ تھا۔
۱۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو لوگ ابتدائی مرحلہ میں ایمان لائے ان میں سے ایک خالد بن سعید بن العاص تھے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ : اے محمد ، آپ کس چیز کی طرف بلاتے ہیں
‹ Previous page Next page › Contents of February 1985 All issues