Al-Risala · February 1985 · page 18

هذا ما قاضي عليه محمد رسول الله

الرسالہ، فروری ۱۹۸۵، صفحہ ۱۸

ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ میں تم کو ایک اللہ کی طرف بلاتا ہوں جس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اور یہ تم پتھروں کی عبادت چھوڑ دو جو نہ سنتے اور نہ دیکھتے ہیں اور نہ نفع یا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ان کو یہ بھی نہیں معلوم کہ کس نے ان کی عبادت کی اور کس نے ان کی عبادت نہیں کی (ولا يدري من عبده ممن لا يعبده)، خالد نے یہ سن کر کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی اللہ نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔

حضرت خالد کے والد جو مشرک تھے جب ان کو معلوم ہوا کہ ان کے بیٹے نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ تو انھوں نے ان کو پکڑا اور انھیں مارنا شروع کیا، یہاں تک کہ مارتے مارتے لکڑی ٹوٹ گئی۔ جب حضرت خالد اسلام سے پھرنے کے لئے تیار نہیں ہوئے تو باپ نے کہا کہ میں تمہارا کھانا پینا بند کر دوں گا اور تجھے گھر سے نکال دوں گا۔ حضرت خالد نے جواب دیا، خدا کی قسم محمد نے جو کہا سچ کہا اور میں ان کا پیرو ہوں احمد صداق والله واتبعته، دوسرے لفظوں میں یہ کہ محمد جب ایک حق بات کہہ رہے ہیں تو کیسے ممکن ہے کہ میں اسے نہ مانوں۔

۲ دوسری مثال سہیل بن عمر و کی ہے۔ صلح حدیبیہ کے وقت وہ مخالفین اسلام کے نمائندہ تھے۔ طویل گفت و شنید کے بعد جب معاہدہ لکھا جانے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو املا کراتے ہوئے یہ الفاظ کہے:

هذا ما قاضي عليه محمد رسول الله

سہیل بن عمرو نے ان الفاظ پر سخت اعتراض کیا۔ انھوں نے کہا کہ خدا کی قسم اگر ہم جانتے کہ آپ خدا کے رسول ہیں تو ہم آپ کو بیت اللہ سے نہ روکتے اور نہ آپ سے لڑائی کرتے (و الله لو كنت اعلم انك رسول الله ما صل دناك عن البيت ولا قاتلناك بعد کی تاریخ نے بتایا کہ سہیل بن عمرو ان الفاظ میں پوری طرح صادق تھے۔ وہ واقعہ نہ سمجھنے کی وجہ سے مخالفت کر رہے تھے۔ چنانچہ بعد کو جب ان کی سمجھ میں آگیا کہ آپ سچے پیغمبر ہیں تو وہ ایمان لائے اور اس کے بعد اپنی پوری زندگی اسلام کی حمایت اور تائید میں وقف کر دی۔

۳ تیسری مثال ابوجہل کی ہے۔ ابو جہل نے اگر چہ اسلام قبول نہیں کیا۔ مگر اس کے یہاں بھی اس عرب کردار کا ایسا نمونہ ملتا ہے جس کی مثال مشکل سے کہیں دوسری جگہ ملے گی۔

مکی دور کا واقعہ ہے کہ ایک روز ابو جہل کی ملاقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی۔ اس نے آپ کو بہت برا بھلا کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ یہ واقعہ کہ کی ایک عورت

‹ Previous page Next page › Contents of February 1985 All issues

Printed page