فکری توجیه
الرسالہ، فروری ۱۹۸۵، صفحہ ۲۳
میں سادہ طور پر پرشد دارون کے خیالات کو انسانی نسل پر چسپاں کر رہا ہوں۔ نسل کے تمام افراد اپنی معاش حاصل کرنے کے سلسلے میں بڑھتی ہوئی مشکل سے دوچار ہوتے ہیں۔ دباؤ کے زیر اثر ایک اوسط ترقی ہوتی ہے۔ بالآخر صرف وہ لوگ زندہ رہتے ہیں جو اس کے تحت ترقی کریں ، اور یہ لازماً ان کی نسلوں کا انتخاب ہوتا ہے۔ سمنر نے جس طرح اس کی تعبیر کی ہے اس کا ایک نمونہ یہ ہے:
کروڑ پتی لوگ انتخابِ فطرت کی ایک پیداوار ہیں۔ یہ اس لیے کہ اس طرح انھوں نے اس دولت کو چنا ہے، خود بھی اور سونے جانے کے اعتبار سے بھی۔ وہ ان کے ہاتھوں میں بڑھتی ہے۔ وہ واضح طور پر سماج کے کارندے سمجھے جاسکتے ہیں جن کو فطری طور پر معین کام کے لیے منتخب کیا گیا ہو۔ وہ زیادہ بڑی اجرت لیتے ہیں اور عیش کی زندگی گزارتے ہیں۔ مگر یہ سودا سماج کے لیے مفید ہے۔
موجودہ زمانہ میں نظریہ ارتقاء کی مقبولیت (اور اسی طرح دوسرے بہت سے نظریات کی مقبولیت) کاراز یہ نہ تھا کہ یہ نظریات بذاتِ خود حق تھے۔ بلکہ ان کی مقبولیت کا اصل راز یہ تھا کہ وہ ان لوگوں کی قومی خواہشات سے مطابقت رکھتے تھے جن کے درمیان وہ پیش کئے گئے۔ یہ نظریات ان قوموں کی کارروائیوں کے لئے فکری جواز فراہم کرتے تھے۔
اکثر حالات میں ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ایک چیز کو یہ کہہ کر لیتا ہے کہ وہ اس کو حق سمجھتا ہے۔ حالانکہ وہ اس کو صرف اس لئے لیتا ہے کہ وہ اس کی خواہشات کے مطابق ہے نہ کہ علم وعقل کے مطابق۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1985 All issues