ایمان بڑھتا ہے
الرسالہ، فروری ۱۹۸۵، صفحہ ۲۶
اہل ایمان کی معرفت بڑھتی رہتی ہے (طہ: ۱۱۳)
جو لوگ واقعی ایمان کی دولت پائیں ان کا ایمان اسی طرح بڑھتا رہتا ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ ایمان کو اس کی گہرائیوں کے ساتھ نہ پائیں ان کے لئے ایمان میں ایک جامد چیز ہوتی ہے، وہ بڑھنے اور ترقی کرنے والی چیز نہیں ہوتی۔ قال البيهقي عن عطاء بن يسار ان عبد الله بن عطار بن یسار سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ رواحة قال لصاحب له تعالَ نؤمن بربنا بن رواحہ نے اپنے ایک ساتھی سے کہا کہ آؤ کچھ دیر کے ساعة - فغضب الرجل وقال اولنا لمؤمنين لئے اپنے رب پر ایمان لائیں۔ ساتھی یہ سن کر غصہ میں آگیا قال بلى ولسكنا نذكر الله فنشن داد اس نے کہا کہ کیا ہم مومن نہیں ہیں۔ حضرت ابن رواحہ ایمانًا نے کہا کہ ہاں ہم مومن ہیں، مگر ہم اللہ کی یاد کرتے ہیں تو اس سے ہمارے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔
مذکورہ آدمی کے نزدیک ایمان کا مطلب یہ تھا کہ توحید کا کلمہ (لا الہ الا اللہ) پڑھ لیا جائے کلمہ کی ادائیگی کے بعد اس کے نزدیک بات پوری ہو جاتی تھی۔ مگر حضرت عبداللہ بن رواحہ خدا کو اس کے ان کمالات کے ساتھ پائے ہوئے تھے جس کی کوئی حد وانتہا نہیں۔ پہلے آدمی کے نزدیک اگر کلمہ پڑھ کر بات ختم ہوتی تھی تو حضرت عبداللہ بن رواحہ کے نزدیک اس کے بعد بات شروع ہوتی تھی۔ خدا کا تصور ان کے ذہن میں اس طرح آتا تھا کہ کدہ لامحدود کمالات کا خزانہ ہے۔ اس لئے اس کا ذکر بھی ان کے نزدیک ایسی چیز تھی جو لامحدود طور پر جاری رہے۔ وہ خدا میں جینے والے تھے۔ اور جو شخص خدا میں جئے وہ برابر خدا کی یاد کرتا رہے گا، اس کو کبھی یہ احساس نہیں ہوگا کہ وہ اس کی آخری حد پر پہنچ گیا ہے۔
قال عثمان بن عفان رضی الله عنه، لو طهرت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا، اگر تمہارے دل قلوبكم ما شبستم من كلام ربكم پاک ہو جائیں تو اللہ کی بات سے تم کو سیری نہ ہو۔ کسی بات سے سیر ہونے یا نہ ہونے کا تعلق آدمی کے ظرف سے ہوتا ہے۔ چھوٹا گڑھا تھوڑے سے پانی سے بھر جاتا ہے۔ مگر سمندر کو پانی کی بڑی سے بڑی مقدار بھی بھرنے میں کامیاب نہیں ہوتی۔ یہی حال انسان کا ہے۔ اگر آدمی کے اندر کا ظرف یا اس کی سمائی کم ہو تو وہ ذرا سی بات سے بھر جائے گا۔ اور اگر اس کی سمائی بہت زیادہ ہو تو اس کو کبھی سیری حاصل نہیں ہوگی۔
ایک عام آدمی توحید کا مطلب صرف یہ جانتا ہے کہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھ لیا جائے۔ " کلمہ توحید" کا تلفظ کرنے کے بعد اس کو ایسا لگتا ہے کہ بات ختم ہوگئی۔ اس کے بعد اس کے پاس کچھ اور نہیں رہتا جس کو وہ سوچے یا اپنی زبان سے کہے۔ مگر جو شخص توحید کی حقیقت کو پا جائے اس کے پاس توحید کے
‹ Previous page Next page › Contents of February 1985 All issues