Al-Risala · February 1985 · page 27

ایمان بڑھتا ہے

الرسالہ، فروری ۱۹۸۵، صفحہ ۲۷

موضوع پر کہنے کے لئے اتنی زیادہ بات ہوگی جو کبھی ختم نہ ہو۔

موجودہ زمانہ میں سائنس دانوں نے کائنات کو دریافت کیا ہے تو وہ محسوس کرتے ہیں کہ انھوں نے ایک ایسی دنیا کو دریافت کیا ہے جس کے ایک ایک ذرہ کی تفصیلات اتنی زیادہ ہیں جو کبھی بیان نہ کی جاسکیں۔ پھر جو شخص کائنات کے خالق کو دریافت کرے اس کے پاس تو علم کا ایسا بھنڈار ہونا چاہیے جو سارے انسانی الفاظ بولنے کے بعد بھی ختم نہ ہو۔ جو دنیا کے تمام قلم اور دنیا کی تمام سیاہی کو استعمال کرنے کے بعد بھی لکھنے سے رہ جائے۔

اگر آپ نے خدا کو دریافت نہیں کیا ہے تو آپ کے پاس خدا کے نام سے بس چند الفاظ ہوں گے۔ لاالہ الا اللہ کا فقرہ زبان سے ادا کرنے کے بعد آپ کو ایسا محسوس ہوگا گو یا بات ختم ہوگئی۔ اس کے بعد آپ اگر مزید کچھ جانیں گے تو وہ بس اسی فقرہ کی بے سوچی تکرار ہوگی۔ لیکن اگر آپ واقعی خدا کو پالیں تو خدا کے بارے میں آپ کے پاس اتنی زیادہ باتیں ہوں گی جو لکھنے اور بولنے سے کبھی ختم نہ ہوں۔ جن کے بارے آپ کبھی سیر نہ ہوسکیں۔

خدا کی کوئی انتہا نہیں۔ اس لئے خدا کی معرفت کی بھی کوئی انتہا نہیں ہو سکتی جس طرح خدا لامحدود ہے اسی طرح خدا کی معرفت بھی لامحدود ہے۔ جس آدمی کی معرفت خدا وندی لا محدود نہ ہو، اس نے ابھی حقیقی خدا کو نہیں پایا ہے۔ وہ کسی " محدود " میں اٹکا ہوا ہے، وہ ابھی " لامحدود " تک نہیں پہنچا۔ اسلام اور عصر حاضر اسلامی مرکز کی تازہ پیشکش اس کتاب میں اسلامی تعلیمات کو جدید اسلوب میں پیش کیا گیا ہے۔

قیمت ۲۰ روپے

‹ Previous page Next page › Contents of February 1985 All issues

Printed page