Al-Risala · February 1985 · page 29

اداره الرساله

الرسالہ، فروری ۱۹۸۵، صفحہ ۲۹

سمجھیں۔ اس قسم کا خیال کرنا خدا کی خدائی کو باطل کرنے کے ہم معنی ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے ورمیان ہے بیکار نہیں بنایا۔ یہ ان لوگوں کا گمان ہے جو منکر ہیں۔ ایسے منکرین کے لئے بربادی ہے جہنم کی آگ سے۔ کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کیا اور ان کو جو زمین میں فساد کرتے ہیں یکساں کر دیں گے۔ کیا متقیوں کو ہم فاجروں جیسا کر دیں گے (ص) جو لوگ اپنے ان ظالمانہ مشغلوں میں لطف رہے ہیں ان کو بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ اس دنیا کے مالک وہ نہ تھے بلکہ اس دنیا کا مالک خدا تھا۔ موت کا فرشتہ جب ان کو پچھاڑے گا تو وہ دیکھیں گے کہ وہ چیونٹی سے بھی زیادہ بے حقیقت تھے۔ وہ چیزیں جن کے بل پر وہ اپنے کو طاقت در سمجھے ہوئے تھے وہ ان کے کچھ کام نہ آئیں گے وہ اوندھے منہ اپنے کو آخرت کی خندق میں گرا ہوا پائیں گے وہ پکاریں گے مگر وہاں کوئی نہ ہوگا جو ان کی پکار کو سنے، وہ مدد چاہیں گے مگر وہاں کوئی نہ ہوگا جو ان کی مدد کے لئے دوڑے ۔

ایجنسی : ایک پروگرام

الرساله اس لئے نہیں ہے کہ آپ اس کو پڑھ کر اس کی تعریف کر دیں۔

الرساله آپ کی ذمہ داری کا عنوان ہے۔ الرساله آپ سے کچھ کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ وہ کرنا یہ ہے کہ آپ اس کی ایجنسی لیں۔

اردو الرساله اردو داں طبقہ کے لئے ہے اور انگریزی الرساله انگریزی داں طبقہ کے لئے۔ مگر الرساله اپنے امکانی قارئین تک آپ ہی کے ذریعہ پہنچے گا۔ اگر آپ الرسالہ کی ایجنسی لئے ہوئے ہیں تو اس کو بڑھائیے۔ اور اگر آپ نے ابھی تک الرسالہ کی ایجنسی نہیں لی ہے تو فوراً ہم کو ایک خط لکھ کر ایجنسی شروع کر دیجئے۔

اداره الرساله

‹ Previous page Next page › Contents of February 1985 All issues

Printed page