Al-Risala · February 1985 · page 30

اداره الرساله

الرسالہ، فروری ۱۹۸۵، صفحہ ۳۰

ایک سفر

ایک اسلامی کانفرنس میں شرکت کے سلسلے میں مراکو کا سفر ہوا۔ جولائی ۱۹۸۴ء میں ملیشیا جانا ہوا تھا۔ اب نومبر ۱۹۸۴ء میں مراکو جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ گویا اس مسلم دنیا کا ایک سرے سے دوسرے سرے کی طرف سفر تھا جو ملیشیا اور انڈونیشیا سے لے کر مراکو تک پھیلی ہوئی ہے۔

مراکو مغرب کی سمت میں افریقہ کا آخری ملک ہے جو جرا ہین کے قریب واقع ہے۔ چنانچہ اس ملک کا دوسرا نام مغرب ہے۔ مراکو کا رقبہ دو لاکھ ۷۵ ہزار مربع میل ہے۔ اور آبادی ۲۰ ملین سے کچھ زیادہ ہے جس میں بیشتر تعداد مسلمانوں کی ہے۔ اس کی راجدھانی رباط ہے اور شاہ حسن ثانی اس کے موجودہ حکمران ہیں۔

مراکو کو بنو امیہ کے دور میں عقبہ بن نافع نے فتح کیا تھا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں عقبہ بن نافع نے اپنا مشہور جملہ کہا تھا۔ جب وہ خشکی کو فتح کرتے ہوئے مراکو کی آخری سرحد پر پہنچے جس کے آگے اٹلانٹک سمندر موجیں مار رہا تھا تو انھوں نے اسلامی جوش کے تحت اپنا گھوڑا پانی میں ڈال دیا اور پانی کے اندر کھڑے ہو کر کہا:

والله لو علمت ان وراء هذا البحر بلد لتعنته خدا کی قسم اگر میں جانتا کہ اس سمندر کے پار بھی کوئی ملک ہے تو میں سمندر کو عبور کر کے وہاں پہنچتا یہاں تک کہ ایک خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے۔

دور اول کے مسلمان جس مقصد کے لئے سرشار ہو کر اٹھے تھے وہ لوگوں کو خدا کے واحد کی عبادت گزار بنانا تھا۔ نہ کہ ملکی فتوحات حاصل کرنا۔ مگر بعد کی نسلیں اس راز کو بھول گئیں۔ انھوں نے فتوحات اور سیاسی کارناموں ہی کو سب کچھ سمجھ لیا۔ اسی وقت سے مسلمانوں کا زوال شروع ہو گیا۔

۲۵ نومبر کو جب میں نے یہاں اپنے ہوٹل کے کمرہ میں کھڑے ہو کر اٹلانٹک کی لہروں کو موجیں مارتے ہوئے دیکھا تو مجھے ایسا معلوم ہوا جیسے یہ موجیں آج بھی عقبہ بن نافع کے اس تاریخی قول کی امانت لئے ہوئے ہیں اور اس کو توحید کا نام لینے والوں تک پہنچا دینا چاہتی ہیں۔

مراکو کی فتح کے بعد طارق بن زیاد کو یہاں کا حاکم مقرر کیا گیا۔ یہ وہی طارق بن زیاد ہے جس کے نام سے جبل الطارق (جبرالٹر) موسوم ہے۔ اس نے آبنائے جبرالٹر کے مقام پر سمندر کو عبور کیا اور اندلس میں داخل ہو کر اس کا بڑا حصہ فتح کر ڈالا۔ اس کے بعد اسپین کی تقریباً آدھی آبادی مسلمان ہو گئی مگر بعد کو جب

‹ Previous page Next page › Contents of February 1985 All issues

Printed page