اداره الرساله
الرسالہ، فروری ۱۹۸۵، صفحہ ۷۱
تھا۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں کئی لوگوں نے اس کو پڑھا اور اتناز یاد ہ پسند کیا کہ ان کو بے حد اشتیاق ہو گیا کہ مصنف کو دیکھیں۔ وہ لوگ مزید انگریزی کتابوں کا شدت کے ساتھ تقاضا کر رہے ہیں۔ ان کے نام رسالہ انگریزی جاری کر دیا گیا ہے۔
ایک صاحب یوگوسلاویہ سے آئے تھے۔ انھوں نے موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی حالت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں اور حالت یہ ہے کہ دنیا بھر میں پناہ گزینوں (لا پینٹوں) کی جو تعداد ہے، اس میں ۸۰ فی صد سے زیادہ مسلمان ہیں۔ یہ تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں پر وہ چیز طاری کر دی گئی ہے جس کو قرآن میں ذلت ومسكنت" کہا گیا ہے۔ ہم کو گہرائی کے ساتھ سوچنا چاہئے کہ مسلمانوں کا یہ حال کیوں ہے۔ مسلمان موجودہ زمانہ میں دوسری قوموں سے پیچھے کیوں ہو گئے۔
ایک صاحب جو کویت سے آئے تھے۔ انھوں نے موجودہ زمانہ کی مسلم تنظیموں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تنظیمیں قرآن وسنت کی بنیاد پر اٹھی ہیں اس لئے ان کے پاس اچھے افکار کی کمی نہیں۔ مگر اس دنیا میں صرف فکر کافی نہیں بلکہ نظم اور منصوبہ بندی بھی لازمی طور پر ضروری ہے۔ اس اعتبار سے ان تنظیموں کی حالت افسوس ناک ہے۔ انھوں نے کہا کہ مغربی ممالک اسی لئے ہم سے آگے بڑھ گئے ہیں کہ وہ منظم انداز سے کام کرتے ہیں۔ اور ہم اس لئے پیچھے ہوگئے ہیں کہ ہمارا کام نظم و ترتیب سے خالی ہوتا ہے (وما تفوق الغرب منا الا بالانظام وما تأخرنا منه الا بالفوضي وعدم النظام)
ایک صاحب جو کناڈ اسے آئے تھے، انھوں نے بتایا کہ کناڈا کی کل ۲۵ ملین آبادی میں ڈیڑھ لاکھ مسلمان ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ کناڈا میں مکمل آزادی ہے۔ کسی قسم کا کوئی تعصب نہیں ہے۔ وہاں اسلامی دعوت کا کام کرنے کے زیر دست مواقع ہیں۔ مگر ہندوستان اور پاکستان کے لوگوں نے وہاں اگر آپس کے مذہبی جھگڑے کھڑے کر دئے ہیں۔ وہاں دوسروں کی طرف سے ہمارے لئے کوئی مشکل نہیں مگر اپنوں کی طرف سے مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہاں ایک نئی مسجد بنائی گئی ہے جس کی مالیات کی فراہمی میں نے ۸۰ فی صد تک تعاون کیا تھا مگر جب مسجد بن گئی تو اس کے اندر شدید مذہبی جھگڑے کھڑے ہو گئے یہاں تک کہ میں نے اور میری طرح بہت سے لوگوں نے اس مسجد میں جانا ہی چھوڑ دیا۔ انھوں نے بتایا کہ مغرب میں مسلمانوں کی تصویر بہت خراب ہے۔ ان کو امکانی دہشت پسند (Potential terrorists) کہا جاتا ہے۔ اس میں اگرچہ یہودی پروپیگنڈارے کا دخل ہے۔ مگر خود مسلمانوں نے اپنے عمل سے بھی اس کا ثبوت فراہم کیا ہے۔ اور یہ دوسرا پہلو یقینا زیادہ افسوس ناک ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1985 All issues